وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ؕ﴿۴﴾
اور وہ لوگ جنھیںکتاب دی گئی، جدا جدا نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس کھلی دلیل آگئی۔
En
اور اہل کتاب جو متفرق (و مختلف) ہوئے ہیں تو دلیل واضح آنے کے بعد (ہوئے ہیں)
En
اہل کتاب اپنے پاس ﻇاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 4) ➊ {وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ …:} اس آیت میں اہلِ کتاب کے ایک جرم کا ذکر فرمایا، مشرکین کا نام نہیں لیا، کیونکہ جب پڑھے لکھوں کا یہ حال ہے تو جاہل مشرکین کی ضد اور عناد کا اندازہ خود کرلیں۔ اہل کتاب کا یہ جرم ان کا باہمی تفرقہ تھا اور اس جرم کا ارتکاب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے بھی کیا اور آپ کی آمد پر بھی۔ آپ کی تشریف آوری سے پہلے وہ بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ چکے تھے۔ اس آیت میں وضاحت فرمائی کہ ان کے الگ الگ بہتر (۷۲) فرقے بننے کی وجہ یہ نہ تھی کہ انھیں اللہ کے حکم کا علم نہ تھا، نہیں! بلکہ {” الْبَيِّنَةُ “ } (کھلی دلیل اور واضح حکم) موجود ہونے کے باوجو د باہمی ضد اور عناد کی وجہ سے کسی نے احبار و رہبان میں سے کسی ایک کے اقوال کو حجت مان کر اس کے نام پر فرقہ بنا لیا اور کسی نے دوسرے کے نام پر۔ یہی حال مسلمانوں کا ہوا، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَفَرَّقَتِ الْيَهُوْدُ عَلٰی إِحْدٰی وَسَبْعِيْنَ فِرْقَةً، أَوِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِيْنَ فِرْقَةً، وَالنَّصَارٰی مِثْلَ ذٰلِكَ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِيْ عَلٰی ثَلاَثٍ وَّسَبْعِيْنَ فِرْقَةً] [ترمذي، الإیمان، باب ما جاء في افتراق ھٰذہ الأمۃ: ۲۶۴۰، وقال ترمذي و الألباني حسن صحیح] ”یہود اکہتر (۷۱) یا بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ گئے، نصرانیوں کا بھی یہی حال ہوا اور میری امت تہتر (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی۔“ اس افتراق کا حل پہلے بھی یہ تھا اور اب بھی یہی ہے کہ تمام امت اللہ کے نازل کردہ احکام پر متفق ہو جائے، علماء کے اقوال سے کتاب و سنت سمجھنے میں مدد لی جائے مگران میں سے کسی کے قول کو شرع سمجھ کر فرقہ نہ بنایا جائے، بلکہ جہاں اس کی بات وحی الٰہی کے خلاف ہو، خواہ کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ ہو، اسے یکسر ترک کر دیا جائے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد آپ پر اہلِ کتاب کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ ہرگز نہ تھی کہ انھیں آپ کے سچا ہونے میں کوئی شک تھا، بلکہ پہلی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح بشارت اور نشانیاں موجود ہونے کی وجہ سے وہ آپ کو اپنے بیٹوں کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر پہچانتے تھے، مگر محض حسد اور عناد کی وجہ سے آپ کے بارے میں جدا جدا ہوگئے، کوئی ایمان لے آیا اور کوئی کفر پر ڈٹا رہا۔ حسد اور عناد ایک تو یہ تھا کہ آپ بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل سے کیوں ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنی مذہبی سرداری چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد آپ پر اہلِ کتاب کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ ہرگز نہ تھی کہ انھیں آپ کے سچا ہونے میں کوئی شک تھا، بلکہ پہلی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح بشارت اور نشانیاں موجود ہونے کی وجہ سے وہ آپ کو اپنے بیٹوں کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر پہچانتے تھے، مگر محض حسد اور عناد کی وجہ سے آپ کے بارے میں جدا جدا ہوگئے، کوئی ایمان لے آیا اور کوئی کفر پر ڈٹا رہا۔ حسد اور عناد ایک تو یہ تھا کہ آپ بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل سے کیوں ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنی مذہبی سرداری چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یعنی اہل کتاب، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل اکھٹے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث ہوگئی، اس کے بعد یہ متفرق ہوگئے، ان میں سے کچھ مومن ہوگئے لیکن اکثریت ایمان سے محروم ہی رہی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث و رسالت کو دلیل سے تعبیر کرنے میں یہی نقطہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت واضح تھی جس میں مجال انکار نہیں تھی۔ لیکن ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب محض حسد اور عناد کی وجہ سے کی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تفرق کا ارتکاب کرنے والوں میں صرف اہل کتاب کا نام لیا ہے، حالانکہ دوسروں نے بھی اس کا ارتکاب کیا تھا، کیونکہ یہ بہرحال علم والے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور صفات کا تذکرہ ان کی کتابوں میں موجود تھا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی ان میں تفرقہ اس بات کے بعد پیدا ہوا جبکہ پہلے ان کے پاس واضح احکام آچکے [6] تھے
[6] فرقہ بندی کی اصل وجہ :۔
اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ ان اہل کتاب کے پاس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے جلیل القدر پیغمبر اور قرآن جیسی روشن کتاب آنے کے بعد ان میں تفرقہ پیدا ہو گیا۔ کچھ تھوڑے بہت لوگ ایمان لے آئے باقی کافر کے کافر ہی رہے حالانکہ ان کے پاس واضح دلائل آچکے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کے بعد ان کی امت جو فرقوں میں بٹنا شروع ہو جاتی ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ ان کے پاس روشن دلائل موجود نہیں ہوتے یا ان پر حق بات مبہم رہ جاتی ہے۔ بلکہ وہ اپنی اپنی اغراض، مفادات اور جاہ طلبی کی ہوس میں فرقہ در فرقہ بٹتے چلے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔