اس آیت کی تفسیر آیت 2 میں تا آیت 4 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 یہاں کتب سے مراد احکام دینیہ، قیمہ، معتدل اور سیدھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ جس میں مستحکم کتابیں [5] موجود ہیں
[5] اس آیت کے دو مطلب ہیں اور وہ دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن کی ہر سورت ایک مستقل کتاب ہے اور یہ قرآن ایسی ہی 114 مستقل کتابوں کا مجموعہ ہے۔ اس کی ایک ایک سورت اپنے موضوع و مضمون کے لحاظ سے مکمل ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس میں سابقہ تمام کتب سماویہ کا خلاصہ یا جو باتیں دین کی اصل بنیاد رہی ہیں سب ذکر کر دی گئی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔