رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً ۙ﴿۲﴾
اللہ کی طرف سے ایک رسول، جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے۔
En
(یعنی) خدا کے پیغمبر جو پاک اوراق پڑھتے ہیں
En
اللہ تعالیٰ کا ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 3،2){ رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً …:} قرآن مجید کو {” صُحُفًا مُّطَهَّرَةً “} اور اس میں موجود احکام اور سورتوں کو {” قَيِّمَةٌ “} (نہایت مضبوط) قرار دیا ہے کہ ان میں کسی قسم کی ناپاک بات یا کمزور اور بے بنیاد قصہ یا حکم نہیں۔ اگرکسی شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پاک صحیفوں اور ان میں لکھے ہوئے مضبوط احکام کی پاکیزگی اور مضبوطی معلوم کرنے کا شوق ہو تو وہ قرآن مجید کا بائبل کے مجموعے میں موجود پہلے صحیفوں کے ساتھ موازنہ کرلے، جن میں صحیح باتوں کے ساتھ عقل و اخلاق سے گری ہوئی باتیں، واضح تحریف شدہ احکام اور اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی اور انبیائے کرام کی توہین اور ان پر تہمتوں کی نجاست صاف نظر آتی ہے، مثلاً لوط اور سلیمان علیھما السلام پر بے بنیاد تہمتیں، جن سے وہ ہر طرح سے پاک اور بری ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
2۔ 1 حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ 2 یعنی قرآن مجید جو لوح محفوظ میں پاک صحیفوں میں درج ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ (یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول جو انہیں پاکیزہ صحیفے پڑھ [4] کر سناتا ہے
[4] آپ کی رسالت کے دلائل :۔
وہ روشن اور واضح دلیل اللہ تعالیٰ کا جلیل القدر رسول ہے۔ جو اپنی رسالت پر خود دلیل ہے۔ اس کے لیے کسی دوسری دلیل کی ضرورت نہیں۔ اس کی پوری زندگی، اس کی صداقت اور دیانت ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اگر وہ کہتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو فی الواقع وہ اللہ کا رسول ہے۔ نیز جو قرآن وہ ان اہل کتاب اور مشرکین کو پڑھ کر سناتا ہے اور امی ہونے کے باوجود سناتا اور ایسا معجز نما کلام پیش کرتا ہے۔ تو ایسے قرآن کی آیات پڑھ کر سنانا ہی اس کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ایک امی ہونے کے باوجود وہ ایسا کلام پیش کر رہا ہے جس کی مثال پیش کرنے سے عرب کے فصحاء اور بلغاء سب عاجز آگئے تھے۔ ﴿صُحُفًا مُّطَهَّرةً﴾ کے دو مطلب ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ جو قرآن وہ پیش کرتا ہے۔ وہ ہر طرح کی تحریف، اضافہ یا ترمیم اور حذف سے پاک ہے۔ نیز وہ ہر قسم کی انسانی دستبرد سے پاک ہے۔ جبکہ اہل کتاب کی کتابوں میں تحریف بھی موجود ہے۔ انسانوں کے اضافے بھی اور حذف بھی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم نہایت پاکیزہ ہے وہ کسی نبی کی سیرت و کردار کو داغدار نہیں بناتا جبکہ اہل کتاب نے بعض انبیاء کی سیرت پر گھناؤنے الزامات لگائے انہیں ان سے پاک کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭
اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ۱؎ [80-عبس:13-16] الخ یعنی ’ وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں ‘۔
پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ’ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں ‘۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔
جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ۱؎ [80-عبس:13-16] الخ یعنی ’ وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں ‘۔
پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ’ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں ‘۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔
پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» ۱؎ [98-البينة:4] یعنی ’ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے ‘۔
جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [3-آل عمران:105] یعنی ’ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے ‘۔
جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ { یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [98-البينة:5] الخ یعنی ’ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں ‘۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] الخ یعنی ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔
«حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔
پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ’ نمازوں کو قائم کریں ‘، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» ‘ اور زکوٰۃ دیتے رہیں ‘ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» ‘ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے ‘۔
بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [3-آل عمران:105] یعنی ’ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے ‘۔
جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ { یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [98-البينة:5] الخ یعنی ’ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں ‘۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] الخ یعنی ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔
«حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔
پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ’ نمازوں کو قائم کریں ‘، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» ‘ اور زکوٰۃ دیتے رہیں ‘ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» ‘ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے ‘۔
بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔