ترجمہ و تفسیر — سورۃ القدر (97) — آیت 3

لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَہۡرٍ ؕ﴿ؔ۳﴾
قدر کی رات ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ En
شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے
En
شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3){ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ:} یعنی لیلۃ القدر اپنی برکتوں اور عبادت کے اجرو ثواب کے لحاظ سے ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جن میں یہ رات نہ ہو۔ پھر ہزار ماہ سے یا تو یہ عدد مراد ہے یا عربوں کے عام دستور کے مطابق کثرت مراد ہے جو اس عدد سے بھی زیاہ ہو سکتی ہے۔ یہاں بعض مفسرین نے بنو امیہ کے ایام حکومت (جو ایک ہزار ماہ تھے) کی مذمت میں ایک روایت لکھی ہے، حالانکہ ترمذی رحمہ اللہ نے اسے روایت کرکے خود ہی ضعیف قرار دیا ہے۔ [دیکھیے ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ لیلۃ القدر: ۳۳۵۰] اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ بنو امیہ کا عہد اگرچہ خلفائے راشدین کے عہد کا مقابلہ نہیں کر سکتا، مگر وہ بھی اسلام کے عروج کا عہد ہے جس میں اسلام کا پھریرا مشرق سے مغرب تک لہرایا۔ انھی کے عہد تک پورا عالم اسلام ایک خلیفہ کے تحت رہا اور اسلام غالب، سر بلند اور محفوظ رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا يَزَالُ هٰذَا الدِّيْنُ عَزِيْزًا مَنِيْعًا إِلَی اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيْفَةً، كُلُّهُمْ مِّنْ قُرَيْشٍ] [مسلم، الإمارۃ، باب الناس تبع لقریش…: 1821/9، عن جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ] یہ دین بارہ خلفاء تک غالب و محفوظ رہے گا،جو سب قریش سے ہوں گے۔ ابو داؤد میں انھی جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی الفاظ یہ ہیں: [لاَ يَزَالُ هٰذَا الدِّيْنُ قَائِمًا حَتّٰی يَكُوْنَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيْفَةً، كُلُّهُمْ تَجْتَمِعُ عَلَيْهِ الْأُمَّةُ، كُلُّهُمْ مِّنْ قُرَيْشٍ] [أبو داوٗد، کتاب المھدي: ۴۲۷۹، وقال الألباني صحیح] یہ دین قائم رہے گا حتیٰ کہ بارہ خلفاء ہوں، جن سب پر امت جمع ہو گی، سب کے سب قریش سے ہوں گے۔ روافض اور ان سے متاثر لوگ اسلام کے اس سنہرے دور کے متعلق فضول باتیں کرتے رہتے ہیں، حالانکہ اس کے بعد نہ امت مسلمہ کو ایک خلیفہ پر جمع ہونے کی سعادت حاصل ہوسکی اور نہ اسلام اس طرح غالب رہا جس طرح ان کے عہد میں غالب تھا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 یعنی اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے اور ہزار مہینے 83 سال چار مہینے بنتے ہیں یہ امت محمدیہ پر اللہ کا کتنا احسان عظیم ہے کہ مختصر عمر میں زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے کیسی سہولت عطا فرما دی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ شب قدر ہزار مہینوں [2] سے بہتر ہے
[2] ہزار مہینے سے بہتر ہونے کے مختلف مفہوم :۔
یہاں ہزار مہینوں سے مراد ہزار مہینے کی معینہ مدت نہیں جس کے تراسی سال اور چار مہینے بنتے ہیں۔ اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ جب انہیں بہت زیادہ مقدار یا مدت کا اظہار کرنا مقصود ہوتا تو ہزار یعنی الف کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ کیونکہ وہ حساب نہیں جانتے تھے۔ اور ان کے ہاں گنتی کا سب سے بڑا عدد الف یعنی ہزار ہی تھا۔ بلکہ اس سے مراد ایک طویل زمانہ ہے۔ اس وضاحت کے بعد اس آیت کے دو مطلب بیان کیے جاتے ہیں ایک یہ کہ بنی نوع انسان کی خیر و بھلائی کا کام جتنا اس ایک رات میں ہوا (یعنی قرآن نازل ہوا) اتنا کام کسی طویل دور انسانی میں بھی نہیں ہوا تھا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس ایک رات کی عبادت ایک طویل مدت کی عبادت سے بہتر ہے اور اس مطلب کی تائید درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ (بخاری، کتاب الایمان۔ باب قیام لیلۃ القدر من الایمان) علاوہ ازیں بعض حضرات ہزار مہینے سے مراد ہزار مہینے (یعنی 83 سال اور 4 ماہ) ہی لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس ایک رات کی عبادت تراسی سالوں کی عبادت سے بہتر ہے جن میں شب قدر کو شمار نہ کیا جائے۔
لیلۃ القدر سے متعلق ایک سوال کا جواب :۔
یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جس رات مثلاً مکہ معظمہ میں شب قدر ہو گی تو اس وقت زمین کے آدھے حصے پر تو دن ہو گا اور سورج چمک رہا ہو گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کے ہاں اصل چیز رات ہے۔ قرآن میں جب کہیں بھی اللہ تعالیٰ نے دن اور رات کا اکٹھا ذکر فرمایا تو رات کا پہلے ذکر فرمایا۔ نیز بعض مقامات پر اللہ نے صرف لیلۃ کا ذکر کر کے اس سے مراد رات اور دن کا عرصہ (یعنی پورے چوبیس گھنٹے) لی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ سے تیس راتوں کا وعدہ (تورات دینے کے لئے) کیا تھا۔ تو ان تیس راتوں سے مراد تیس راتیں اور ان کے دن بھی تھے۔ اس لحاظ سے ہر مقام پر رمضان کی وہی مخصوص رات ہی لیلۃ القدر سمجھی جائے گی اور اس رات کا تعین اس خاص مقام پر چاند دیکھنے سے متعلق ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔