ترجمہ و تفسیر — سورۃ العلق (96) — آیت 9

اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یَنۡہٰی ۙ﴿۹﴾
کیا تونے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے۔ En
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے
En
(بھلا) اسے بھی تو نے دیکھا جو بندے کو روکتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9تا14){ اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يَنْهٰى …:} ان آیات میں ابوجہل کے رویے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ فرمایا، اے مخاطب! بھلا تونے اس شخص کو دیکھا جو اللہ کے بندے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے؟ بھلا یہ بھی کوئی جرم ہے جس سے وہ منع کر رہا ہے؟ پھر تو نے دیکھا، اگر یہ نماز پڑھنے والا راہِ راست پر ہو یا امر بالمعروف کر رہا ہو تو کیا اس سے یہ سلوک ہونا چاہیے؟ پھر کیا تونے دیکھا کہ اگر یہ منع کرنے والا جھٹلا رہا ہو اور منہ موڑ رہا ہو تو کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے؟ آیت: «‏‏‏‏اَرَءَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤى (11) اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰى» ‏‏‏‏ کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ کیا تونے دیکھا کہ یہ نماز سے منع کرنے والا نماز سے روکنے کے بجائے ہدایت پر ہوتا یا نیکی کا حکم دیتا تو کیا ہی اچھا ہوتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا منع [9] کرتا ہے
[9] آپﷺ کے بیت اللہ میں نماز پڑھنے پر ابو جہل کا سیخ پا ہونا اور متعدد بار حملے کرنا :۔
ایک دفعہ ابو جہل نے قریشی سرداروں سے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کے سامنے اپنا چہرہ خاک آلود کرتا ہے۔ (یعنی بیت اللہ میں نماز ادا کرنے کے دوران سجدہ کرتا ہے) لوگوں نے کہا: ’ہاں‘ کہنے لگا: لات و عزیٰ کی قسم! اگر میں نے اسے اب اس حال میں دیکھ لیا تو اس کی گردن روند ڈالوں گا اور اس کا چہرہ مٹی پر رگڑ دوں گا۔ اس کے بعد جب اس نے آپ کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھا تو اس برے ارادے سے آپ کی طرف بڑھا۔ پھر اچانک پیچھے ہٹنے لگا۔ سرداران قریش نے جب اپنے رئیس کو اس حال میں دیکھا تو حیرانی سے پوچھا: ”ابو الحکم کیا ہوا؟“ وہ گھبرایا ہوا کہنے لگا: کہ ”میرے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک خوفناک آگ حائل ہو گئی تھی“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بتایا کہ ”اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو اچک لیتے“ [بخاری، کتاب التفسیر۔ تفسیر لئن لم ینتہ، نیز مسلم کتاب صفۃ القیامۃ والجنہ والنار]
نیز ایک دفعہ ابو جہل اپنے اہل مجلس سے کہنے لگا کہ:”محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معبودوں کی تذلیل اور بزرگوں کی توہین کر کے ہمارا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اب میں نے اللہ سے عہد کیا ہے کہ جب اسے نماز میں دیکھوں گا۔ اس کا سر ایک بھاری پتھر سے کچل دوں گا۔ پھر تم خواہ بنو عبد مناف سے میری حفاظت کرو یا مجھے بے یار و مددگار چھوڑو“ اس کے ساتھیوں نے کہا:”ہم تجھے بے یار و مددگار نہ چھوڑیں گے۔ تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر گزرو“ چنانچہ جب صبح ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسب ِ دستور نماز ادا کرنے لگے تو وہ اپنے پروگرام کے مطابق ایک بھاری پتھر اٹھا کر آگے بڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ میں جانے کا انتظار کرنے لگا۔ قریب پہنچا ہی تھا کہ پھر پیچھے ہٹنے لگا۔ اس کا رنگ اڑ گیا اور وہ بد حواسی کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے پتھر بھی نیچے نہ پھینک سکا۔ اس کے دوستوں نے پوچھا: ”ابو الحکم! یہ کیا ماجرا ہے؟“ اس کے حواس ٹھکانے آئے تو کہنے لگا:” کیا بتاؤں۔ ایک کریہہ المنظر اونٹ آڑے آ گیا تھا۔ اس اونٹ جیسی کھوپڑی، اس جیسی گردن اور اس اونٹ کے دانتوں جیسے دانت میں نے آج تک نہیں دیکھے یہ اونٹ مجھے نگل جانا چاہتا تھا“ [ابن هشام 1: 298، 299]
ایذا پہنچانے والے کافروں کے حق میں آپ کی بد دعا :۔
ایک دفعہ آپ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل اور اس کے ساتھی بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ ابو جہل اپنے ساتھیوں کو مخاطب کر کے کہنے لگا: تم میں سے کون ہے جو فلاں شخص کے ہاں ذبح شدہ اونٹنی کا بچہ دان اٹھا لائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ میں جائے تو اس کی پیٹھ پر رکھ دے؟ عقبہ بن ابی معیط جھٹ بول اٹھا کہ ”یہ کام میں کروں گا“ چنانچہ وہ گیا اور بچہ دان اٹھا لایا۔ پھر جب آپ سجدہ میں گئے تو اسے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔ عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ”میں ان کے مقابلہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے کچھ بھی نہ کر سکتا تھا۔ کاش! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ مدد کر سکتا“ یہ منظر دیکھ کر ابو جہل اور اس کے ساتھی ہنستے ہنستے ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے بوجھ کی وجہ سے اپنا سر اٹھا بھی نہ سکتے تھے۔ اتنے میں کسی نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر کر دی۔ وہ آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن سے بچہ دانی کو اٹھا کر پرے پھینک دیا اور انہیں برا بھلا کہنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سے سر اٹھایا پھر تین بار فرمایا: ﴿اللهم عليك بقريش﴾ (اے اللہ ان قریشیوں سے تو خود نمٹ لے) یہ کلمات سن کر وہ لوگ سہم گئے۔ کیونکہ انہیں اس بات کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بد دعا رنگ لا کے رہے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مجمع کے چھ آدمیوں کے نام لے کر انہیں بد دعا دی اور فرمایا:”یا اللہ! ابو جہل سے نمٹ لے، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن امیہ، امیہ بن خلف اور عتبہ بن ابی معیط سے نمٹ لے۔“ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:”اس اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ یہ سب لوگ بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور بدر کے کنوئیں میں پھینکے گئے تھے۔“ [بخاری۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب دعاء النبی علی المشرکین]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔