ترجمہ و تفسیر — سورۃ العلق (96) — آیت 8

اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجۡعٰی ؕ﴿۸﴾
یقیناتیرے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ En
کچھ شک نہیں کہ (اس کو) تمہارے پروردگار ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
En
یقیناً لوٹنا تیرے رب کی طرف ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 7 میں تا آیت 9 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

یقیناً (تجھے) اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا [8] ہے
[8] ﴿رُجْعٰي بمعنی لوٹ کر واپس جانے کا مقام، یعنی انسان دنیا میں خواہ کتنی ہی سرکشی اختیار کر لے۔ بالآخر اسے اپنے پروردگار کے پاس جانا پڑے گا۔ اس وقت اسے معلوم ہو جائے گا کہ اس کی اس متکبرانہ روش کا انجام کیسا ہوتا ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔