(آیت5){ عَلَّمَالْاِنْسَانَمَالَمْيَعْلَمْ:} انسان پیدا ہوتا ہے تو کچھ بھی نہیں جانتا (دیکھیے نحل: ۷۸) اللہ تعالیٰ ہی اسے آہستہ آہستہ سب کچھ سکھاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہی اپنے ایک ان پڑھ بندے کو عالم بلکہ عالموں کا استاذ بنائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ انسان کو وہ کچھ سکھا دیا [6] جو وہ نہیں جانتا تھا۔
[6] انسان جب ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے اس وقت وہ کچھ بھی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ اسے قلم کے استعمال سے پہلے ہی بہت سی باتیں سکھا دیتا ہے۔ یہ پہلی وحی کی آخری آیت ہے جس میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ علم دیا جا رہا ہے جو جاننے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرصہ سے بے تاب تھے اور اس نے آپ کو اپنا نبی بنا لیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔