(آیت 19) ➊ { كَلَّالَاتُطِعْهُوَاسْجُدْوَاقْتَرِبْ:} فرمایا، وہ آپ کو نماز سے روکتا ہے تو آپ اس کا کہنا ہرگز نہ مانیں، بلکہ آپ نماز پڑھتے، سجدہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَقْرَبُمَايَكُوْنُالْعَبْدُمِنْرَّبِّهِوَهُوَسَاجِدٌفَأَكْثِرُواالدُّعَاءَ][مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟: ۴۸۲]”بندہ اللہ کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو، تو تم (سجدے میں) دعا زیادہ کیا کرو۔ “ صحیح مسلم ہی میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت پر سجدہ کرتے تھے۔ [دیکھیے مسلم، المساجد، باب سجود التلاوۃ: ۱۰۸ /۵۷۸] ➋ اگرچہ ان آیات کا اوّلین مصداق ابو جہل ہے، مگر الفاظ عام ہونے کی وجہ سے ہر وہ شخص ان کا مصداق ہے جس میں یہ صفات پائی جائیں، خواہ کوئی ہو اور کسی زمانے کا ہو اور ہر مومن کو حکم ہے کہ ایسے سرکش آدمی کاکہنا نہ مانے اور اللہ کے سامنے سجدہ کرتا رہے اور اس کا قرب تلاش کرتا رہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ آپ اس کی بات نہ مانئے اور سجدہ کر کے (اپنے پروردگار کا) قرب [13] حاصل کیجئے
[13] سجدہ کی فضیلت :۔
یعنی اس بد کردار شخص کی بات مان کر کعبہ میں نماز کی ادائیگی سے رکنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اسی طرح نماز ادا کرتے رہو۔ جیسے پہلے ادا کرتے رہے ہو۔ واضح رہے کہ یہاں سجدہ سے مراد صرف سجدہ نہیں بلکہ نماز ہے اور عربوں کا قاعدہ ہے کہ وہ کسی چیز کا جزء اشرف بول کر اس سے کل یا اصل چیز مراد لیتے ہیں اور بتایا یہ جا رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر نمازیں ادا کریں گے اتنا ہی زیادہ اللہ کا قرب حاصل ہو گا۔ لہٰذا نمازیں بکثرت ادا کیا کیجیے۔ سجدہ کی فضیلت سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے: 1۔ ربیعہ بن کعب اسلمی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ہی رات کو رہا کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاجت اور وضو کے لیے پانی لایا کرتا۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مانگ کیا مانگتا ہے۔ میں نے عرض کیا ”جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت چاہتا ہوں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:”کچھ اور بھی؟“ میں نے عرض کیا: ”بس یہی کچھ چاہتا ہوں“ آپ نے فرمایا:”اچھا تو کثرت سجود کو اپنے اوپر لازم کر لو اور اس طرح اس سلسلہ میں میری مدد کرو“ [مسلم۔ کتاب الصلوٰۃ باب فضل السجود والحث علیہ] 2۔ اس سورۃ کے اختتام پر بھی سجدہ تلاوت کرنا چاہیے۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورت: ﴿اِذَاالسَّمَاءُانْشَقَّتْ﴾ اور سورۃ اقراء میں سجدہ کیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔