ترجمہ و تفسیر — سورۃ العلق (96) — آیت 18

سَنَدۡعُ الزَّبَانِیَۃَ ﴿ۙ۱۸﴾
ہم عنقریب جہنم کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔ En
ہم بھی اپنے موکلانِ دوزخ کو بلا لیں گے
En
ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلالیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 17 میں تا آیت 19 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

(6) حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل گزرا تو کہ اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے تجھے نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا تھا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت دھمکی آمیز باتیں کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کڑا جواب دیا تو کہنے لگا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تو مجھے کس چیز سے ڈراتا ہے؟ اللہ کی قسم، اس وادی میں سب سے زیادہ میرے حمایتی اور مجسل والے ہیں، جس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابن عباس ؓ عنھما فرماتے ہیں، اگر وہ اپنے حمایتیوں کو بلاتا تو اسی وقت ملائکہ عذاب اسے پکڑ لیتے۔ (ترمذی، تفسیر سورة اقرأ مسند أحمد 329/1 و تفسیر ابن جریر) اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں کہ اس نے آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر پیر رکھنے کا رادہ کیا کہ ایک دم الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور اپنے ہاتھوں سے اپنا بچاؤ کرنے لگا، اس سے کہا گیا، کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ " میرے اور محمد (صلی اللہ علیہ صلم) کے درمیان آگ کی خندق، ہولناک منظر اور بہت سارے پر ہیں " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر یہ میرے قریب ہوتا تو فرشتے اس کی بوٹی بوٹی نوچ لیتے (کتاب صفۃ القیامۃ، باب ان الأنسان لیطغیٰ) الزبانیۃ، داروغے اور پولیس۔ یعنی طاقتو لشکر، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ ہم عذاب کے فرشتوں کو بلائیں [12] گے
[12] اس آیت کا سبب نزول درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کعبہ میں) نماز پڑھا کرتے تھے۔ ابو جہل آیا اور کہنے لگا: کیا میں تمہیں اس کام سے منع نہیں کر چکا۔ تین بار اس نے یہ الفاظ دہرائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو اسے سخت سست کہا۔ ابو جہل کہنے لگا: یہ تو تم جانتے ہو کہ کسی کے ہم نشین مجھ سے زیادہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ وہ اپنے ہم نشین بلا لے، ہم دوزخ کے فرشتے بلاتے ہیں۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اگر وہ اپنے ہم نشین بلاتا تو اللہ کے فرشتے اسے پکڑ لیتے [ترمذي۔ ابواب التفسير]
﴿زبانيه﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿الزبانية﴾ ﴿زبانيه﴾ سے مراد بالاتفاق دوزخ کے عذاب دینے والے فرشتے ہیں۔ ﴿زباني العقرب﴾ بمعنی بچھو کا ڈنک۔ اس لحاظ سے ایسے فرشتے مراد ہیں جو سخت دکھ دینے والے اور بے رحم ہونگے۔ نیز ﴿زبانية﴾ سے مراد پولیس بھی ہے اور یہ قتادۃ کا قول ہے اور زبن کے معنی دھکے دے کر نکال دینا بھی ہے۔ جیسے بادشاہوں اور بڑے لوگوں کے ہاں چوبدار ہوتے ہیں جو اس غرض سے رکھے جاتے ہیں کہ جس سے سرکار ناراض ہو اسے دھکے مار کر نکال دیں۔ مراد یہ ہے کہ ابو جہل اپنی مجلس کے لوگوں کو جس پر اسے بڑا ناز ہے بلا کر دیکھ لے ہم عذاب دینے والے فرشتوں سے ان کی بری طرح گت بنا دیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔