(آیت 15تا18) ➊ {كَلَّالَىِٕنْلَّمْيَنْتَهِلَنَسْفَعًۢا …: ”لَمْيَنْتَهِ“} وہ باز نہ آيا {”اِنْتَهٰييَنْتَهِيْاِنْتِهَاءً“} (افتعال) سے جحد معلوم ہے۔ {”يَنْتَهِ“} اصل میں {”يَنْتَهِيْ“} تھا، حرف جزم {”لَمْ“} کی وجہ سے یاء گر گئی۔ {”لَنَسْفَعًا“} اصل میں {”لَنَسْفَعَنْ“} ہے، جو {”سَفَعَيَسْفَعُ“} (ف) (زور سے کھینچ کر گھسیٹنا) سے جمع متکلم مضارع معلوم بانون تاکید خفیفہ ہے۔ چونکہ وقف کی حالت میں نون تاکید خفیفہ ”الف“ کے ساتھ بدل جاتا ہے، جیسا کہ نون تنوین ”الف“ کے ساتھ بدل جاتا ہے، اس لیے نون تنوین {”خَبِيْرًا“} اور {”بَصِيْرًا“} کی طرح اسے بھی {”لَنَسْفَعَنْ“} کے بجائے {”لَنَسْفَعًا“} کی صورت میں لکھا گیا ہے اور اس میں مصحف عثمان رضی اللہ عنہ کی پیروی کی گئی ہے۔ {”وَلَيَكُوْنًامِّنَالصّٰغِرِيْنَ“} بھی ایسے ہی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف کی آیت (۳۲) کی تفسیر۔ {”اَلنَّاصِيَةُ“} سر کے اگلے حصے کے بالوں کو ”ناصیہ“ کہا جاتا ہے۔ {”الزَّبَانِيَةَ“”زِبْنِيَّةٌ“} کی جمع ہے۔ عرب پولیس کے سپاہی کو {”زِبْنِيَّةٌ“} کہتے ہیں۔ یہ {”زَبَنَيَزْبِنُزَبْنًا“} (ض) سے مشتق ہے جس کا معنی ”ہٹانا، دھکا دینا“ ہے۔ چونکہ افسر جس سے ناراض ہو سپاہی اسے دھکے مار کر نکال دیتے ہیں، اس لیے انھیں ”زبانیہ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں جہنم کے فرشتے مراد ہیں کہ اگر یہ باز نہ آیا تو وہ اسے دھکے دے کرنکال دیں گے، بلکہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔ ➋ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوجہل نے کہا: ”کیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تمھارے ہوتے ہوئے اپنا چہرہ زمین پر رکھتا ہے؟“ کہا گیا: ”ہاں!“ ابوجہل نے کہا: ”لات اور عزیٰ کی قسم! اگر میں نے اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو اس کی گردن روند ڈالوں گا، یا اس کے چہرے کو مٹی سے لت پت کر دوں گا۔“ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ اس کا ارادہ آپ کی گردن کو روندنے کا تھا، اچانک لوگوں نے دیکھا کہ وہ ایڑیوں پر واپس پلٹ رہا ہے اور دونوں ہاتھوں کے ساتھ کسی چیز سے بچ رہا ہے۔ اس سے پوچھا گیا: ” تجھے کیا ہوا؟“ اس نے کہا: ”میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق، بڑا ہولناک منظر اور پَر ہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا [لَوْدَنَامِنِّيْلاَخْتَطَفَتْهُالْمَلَائِكَةُعُضْوًاعُضْوًا][مسلم، صفات المنافقین، باب قولہ: «إن الإنسان لیطغٰی…» : ۲۷۹۷]”اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اسے ایک ایک عضو کر کے اچک لیتے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور دشمنی سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے، اس سے باز نہ آیا تو میں اس کی گردن پر پاؤں رکھ دونگا۔ (یعنی اسے روندوں گا اور یوں ذلیل کرونگا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے پکڑ لیتے (صحیح بخاری)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ ہرگز ایسا نہیں چاہیے کہ اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے گھسیٹیں گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔