اس آیت کی تفسیر آیت 13 میں تا آیت 15 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 مطلب یہ ہے کہ یہ شخص جو مذکورہ حرکتیں کر رہا ہے کیا نہیں جانتا کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے وہ اس کو اسکی سزا دے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ تو کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ دیکھ [10] رہا ہے
[10] یعنی ایک طرف تو اللہ کا ایک بندہ اللہ کی عبادت میں مصروف ہے، وہ خود بھی اللہ سے ڈرتا ہے۔ دوسروں کو بھی اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرنے کا حکم دیتا ہے۔ دوسری طرف اللہ کا باغی ہے دعوت حق کو ٹھکراتا ہے اور از راہ تکبر منہ پھیر کر چل دیتا ہے پھر وہ اپنے آپ کو حق پر بھی سمجھتا ہے۔ ذرا سوچو! اس اللہ کے باغی کی عقل پر پتھر نہیں پڑ گئے۔ اسے یہ بھی خیال نہیں آتا کہ کسی کے اعمال خواہ اسے ناپسند ہوں بہرحال اسے اللہ کی عبادت سے کبھی نہ روکنا چاہیے۔ پھر وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ اللہ اس کو بھی دیکھ رہا ہے اور اس اللہ کے باغی کو بھی۔ ان میں سے جو شخص جس سلوک کا مستحق ہو گا اللہ اس سے ویسا ہی سلوک کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ }۔ [صحیح مسلم:482] پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے }۔ [صحیح مسلم:578] اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔