اس آیت کی تفسیر آیت 12 میں تا آیت 14 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
13۔ 1 یعنی یہ ابو جہل اللہ کے پیغمبر کو جھٹلاتا ہو اور ایمان منہ سے پھیرتا ہو (مجھے بتلاؤ)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ (اور) ذرا سوچو (وہ منع کرنے والا) اگر حق کو جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ }۔ [صحیح مسلم:482] پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے }۔ [صحیح مسلم:578] اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔