اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾
اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے پیدا کیا۔
(اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا
پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
یہ قرآن مجید کی پہلی وحی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ایک لمبی حدیث میں وحی کے آغاز کا ذکر ہے کہ وہ سچے خوابوں سے ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں کئی کئی راتیں خلوت اختیار کرنے لگے۔ وہیں آپ کے پاس فرشتہ آیا اور آپ سے کہا: [اِقْرَأْ] ”پڑھ۔“ آپ نے کہا: [مَا أَنَا بِقَارِئٍ] ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ جبریل علیہ السلام نے آپ کو زور سے دبایا اور پھر وہی لفظ {”اِقْرَأْ“} کہا۔ آپ وہی جواب {”مَا أَنَا بِقَارِئٍ “} دیتے رہے۔ تیسری دفعہ زور سے دبانے کے بعد فرشتے نے کہا: «اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ (1) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ (3) الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [العلق: ۱تا۵] [دیکھیے بخاري، التفسیر، باب: ۴۹۵۳]
(آیت 1) ➊ {اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ:} پہلی وحی میں پڑھنے کا حکم دینے سے پڑھنے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
➋ اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دیتے وقت اپنے رب ہونے اور پیدا کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا، کیونکہ سب سے پہلی اور بڑی نعمت پیدا کرنا ہے، باقی تمام نعمتیں اس کے بعد ہیں، خلق ہی نہ ہو تو کچھ بھی نہیں۔ دوسری نعمت رب ہونا، یعنی پرورش کرنا ہے۔ یعنی ان نعمتوں والی ہستی کے نام کی برکت سے پڑھ، اس کی برکت سے تو قاری بھی بن جائے گا۔
➌ {” الَّذِيْ خَلَقَ “} (جس نے پیدا کیا) کا مفعول حذف کر دیا گیا ہے کہ کسے پیدا کیا؟ یعنی جب پیدا کرنا اسی کا کام ہے، تو پھر یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کسے پیدا کیا۔
(آیت 1) ➊ {اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ:} پہلی وحی میں پڑھنے کا حکم دینے سے پڑھنے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
➋ اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دیتے وقت اپنے رب ہونے اور پیدا کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا، کیونکہ سب سے پہلی اور بڑی نعمت پیدا کرنا ہے، باقی تمام نعمتیں اس کے بعد ہیں، خلق ہی نہ ہو تو کچھ بھی نہیں۔ دوسری نعمت رب ہونا، یعنی پرورش کرنا ہے۔ یعنی ان نعمتوں والی ہستی کے نام کی برکت سے پڑھ، اس کی برکت سے تو قاری بھی بن جائے گا۔
➌ {” الَّذِيْ خَلَقَ “} (جس نے پیدا کیا) کا مفعول حذف کر دیا گیا ہے کہ کسے پیدا کیا؟ یعنی جب پیدا کرنا اسی کا کام ہے، تو پھر یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کسے پیدا کیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا (1)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ اپنے پروردگار کے نام سے پڑھیے [1،2] جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا
[1] اس سورت کی ابتدائی 5 آیات غار حرا میں نازل ہوئیں اور انہی آیات سے آپ کی نبوت کا اور وحی کا آغاز ہوا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت یوں شروع ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب سچے ہونے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ خواب میں دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح سامنے آجاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہائی بھلی لگنے لگی۔ آپ غار حرا میں جا کر عبادت کیا کرتے اور کئی کئی راتیں وہاں رہتے، گھر نہ آتے اور توشہ ساتھ لے جاتے پھر اپنے گھر سیدہ خدیجہؓ کے پاس آتے اور اتنا ہی توشہ اور لے جاتے۔ یہاں تک کہ غار حرا میں آپ پر وحی نازل ہوئی۔ وحی کا آغاز کیسے ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ (جبریل علیہ السلام) آیا اور کہنے لگا: ”پڑھیے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان پڑھ ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے کہ پھر فرشتہ نے مجھے بڑے زور سے بھینچا۔ پھر چھوڑا اور کہا: ”پڑھیے“ میں نے کہا: میں ان پڑھ ہوں۔ پھر دوبارہ اس نے مجھے زور سے بھینچا۔ چھوڑا اور کہا ”پڑھیے“ میں نے کہا:”میں پڑھا لکھا نہیں“ فرشتہ نے پھر تیسری بار زور سے بھینچا۔ پھر چھوڑا اور کہا: ﴿اقرأ باسم... لويعلم﴾ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کو لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے اور گردن کا گوشت (ڈر کے مارے) پھڑک رہا تھا۔ آ کر سیدہ خدیجہؓ سے فرمایا: ”مجھے کپڑا اوڑھا دو، کپڑا اوڑھا دو۔“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈر جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہؓ سے کہا: ”خدیجہ! پتا نہیں مجھے کیا ہوا۔ مجھے تو اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سارا واقعہ سنایا۔ سیدہ خدیجہؓ کہنے لگیں۔ ”ہرگز ایسا نہ ہو گا۔ بلکہ آپ خوش ہو جائیے۔ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کبھی ضائع نہ کرے گا۔“ نبوت سے پہلے آپ کا کردار :۔
کیونکہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرابتداروں سے اچھا سلوک کرتے ہیں۔ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ ناتوانوں کے بوجھ اٹھاتے ہیں۔ محروم لوگوں کو (ضرورت کی) اشیاء مہیا کرتے ہیں۔ مہمان کی ضیافت کرتے ہیں اور مصائب میں حق کی پاسداری کرتے ہیں“ پھر سیدہ خدیجہؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زادہ بھائی تھے۔ یعنی ان کا باپ اور ورقہ کا باپ بھائی بھائی تھے۔ دور جاہلیت میں وہ عیسائی ہو گئے تھے (کیونکہ اس وقت یہی دین حق تھا) وہ عربی لکھنا خوب جانتے تھے اور انجیل کا عربی زبان میں ترجمہ لکھا کرتے تھے جتنی کہ اللہ کو منظور ہوتا۔ وہ بہت بوڑھے تھے اور اندھے ہو گئے تھے۔
ورقہ بن نوفل کا آپ کو تسلی دینا :۔
سیدہ خدیجہؓ نے ان سے کہا:” بھائی ذرا اپنے بھتیجے کی بات تو سنو“ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا بیان کر دیا۔ وہ کہنے لگے:”یہ تو وہی ناموس (فرشتہ) ہے جو موسیٰؑ پر اترتا تھا۔ کاش میں اس وقت جوان ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب تمہاری قوم تمہیں (مکہ سے) نکال دے گی۔“ ہجرت کی بات پر آپ کا تعجب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:”کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟“ ورقہ کہنے لگے ”ہاں! کیونکہ جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں وہ جو بھی لایا اسے تکلیف ہی دی گئی اور اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو تمہاری بھر پور مدد کروں گا“ پھر اس واقعہ سے تھوڑی ہی مدت بعد ورقہ فوت ہو گئے۔ اور وحی کا آنا بھی موقوف رہا جس کی وجہ سے آپ غمگین رہا کرتے تھے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
آیت نمبر 6 سے آخر تک کی چودہ آیات اس وقت نازل ہوئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دار ارقم سے نکل کر بیت اللہ شریف میں نماز ادا کرنا شروع کی تھی۔ ان آیات میں بھی مخاطب کا نام نہیں لیا گیا مگر جو صفات بیان کی گئیں ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کا روئے سخن ابو جہل کی طرف ہے جو آپ کو خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے سے روکا کرتا تھا۔ اور ایسا واقعہ کوئی ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ پیش آیا تھا۔
آیت نمبر 6 سے آخر تک کی چودہ آیات اس وقت نازل ہوئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دار ارقم سے نکل کر بیت اللہ شریف میں نماز ادا کرنا شروع کی تھی۔ ان آیات میں بھی مخاطب کا نام نہیں لیا گیا مگر جو صفات بیان کی گئیں ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کا روئے سخن ابو جہل کی طرف ہے جو آپ کو خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے سے روکا کرتا تھا۔ اور ایسا واقعہ کوئی ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ پیش آیا تھا۔
[2] آغاز وحی میں ہی تین اہم سوالوں کا جواب :۔
ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جبرئیل نے غار حرا میں جو وحی آپ پر پیش کی۔ وہ مکتوب شکل میں تھی۔ ورنہ آپ کو جواب میں ما انا بقاری (میں پڑھا ہوا نہیں ہوں) کہنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اگر کوئی استاد کسی بچہ کو یا شاگرد کو زبانی پڑھائے تو اسے ایسا فقرہ جواب میں کہنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ وحی کا آغاز اللہ تعالیٰ کی معرفت سے کیا گیا۔ کائنات کی تخلیق کس نے کی؟ کیسے ہوئی؟ انسان کا اس کائنات میں کیا مقام ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ابتدائے نوع انسانی سے ہی صاحب فکر انسانوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے ہیں۔ اسی سوال کا جواب سب سے پہلے دیا گیا اور بتایا گیا کہ کائنات از خود ہی مادہ سے پیدا نہیں ہو گئی۔ نہ یہ حسن اتفاقات کا نتیجہ ہے۔ بلکہ کائنات کی ایک ایک چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی کے نام سے یعنی بسم اللہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ وحی پڑھنا شروع کیجیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] تک پڑھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔“
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔
ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔
ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4956]
ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔
ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4956]
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا]
اور اسی اثر میں ہے کہ { جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا }۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع]
پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا]
اور اسی اثر میں ہے کہ { جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا }۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع]