(آیت 3) {وَهٰذَاالْبَلَدِالْاَمِيْنِ:} شہر مکہ جو ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام نے آباد کیا اور جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اسے بلد امین اس لیے فرمایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اس کے لیے دعا کی تھی: «رَبِّاجْعَلْهٰذَابَلَدًااٰمِنًا» [البقرۃ: ۱۲۶]”اے میرے رب! اس (جگہ) کو ایک امن والا شہر بنا دے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جس میں قتال کی اجازت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں جو اس میں داخل ہوجائے، اسے بھی امن حاصل ہوتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دراصل تین مقامات کی قسم ہے جن میں سے ہر ایک جگہ میں جلیل القدر پیغمبر مبعوث ہوئے، انجیر اور زیتون سے مراد وہ علاقہ ہے جہاں پر اس کی پیداوار ہوئی اور وہ ہے بیت المقدس، جہاں حضرت عیسیٰ پیغمبر بن کر آئے، سنین پر حضرت موسیٰ کو نبوت ملی، اور شہر مکہ میں سیدالرسل حضرت محمد کی بعثت ہوئی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ اور اس پُر امن شہر [4] (مکہ) کی
[4]﴿البلد الامين﴾ یعنی شہر مکہ معظمہ جہاں طوفان نوح کے بعد حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام نے مل کر دوبارہ کعبہ تعمیر کیا تھا اور حضرت اسماعیلؑ نے اپنی ساری زندگی یہیں بسر کی تھی اور جہاں افضل الانبیاء نبی آخر الزمان پیدا ہوئے۔ یہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا ہوئی اور نبوت کے بعد تیرہ سال یہیں گزارے۔ اسی مقام کے لیے سیدنا ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اس شہر کو محترم اور امن والا بنا دے۔ اور اڑھائی ہزار سال گزرنے کے بعد اس شہر کا احترام بدستور قائم رہا۔ عرب بھر میں ہر جگہ لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم رہتا تھا۔ بس یہی ایک جگہ تھی جہاں لوگوں کو امن میسر آتا تھا اور مکہ کی یہ حرمت آج تک قائم ہے اور آئندہ بھی قائم رہے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔