اس آیت کی تفسیر آیت 2 میں تا آیت 4 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ جو آپ کی کمر توڑ [2] رہا تھا
[2] ﴿وزر﴾ کے دو مفہوم :۔
﴿وِزْرَ﴾ کا لفظ بھاری بوجھ کے لیے آتا ہے اور اس کی جمع اوزار ہے لیکن اس کا اکثر استعمال معنوی بوجھ کے لیے ہوتا ہے بالخصوص بار گناہ اور کسی طرح کے بھی ذہنی بوجھ کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہاں ﴿وزر﴾ سے مراد وہ ذہنی بوجھ ہے جو نبوت سے پہلے ہی آپ کو لاحق تھا۔ جب آپ اپنی قوم کو کفر و شرک کی گمراہیوں اور طرح طرح کی معاشرتی برائیوں میں مبتلا دیکھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے معاشرے کی اس حالت پر سخت دل گرفتہ رہتے تھے کہ کس طرح اس بگڑے ہوئے معاشرے کی اصلاح ممکن ہے۔ مگر اس کی کوئی صورت، کوئی طریقہ اور کوئی راہ نظر نہیں آتی تھی۔ بالآخر آپ پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھیک طرح سے معلوم ہو گیا کہ اس سارے بگاڑ کا علاج توحید، عقیدہ آخرت اور رسالت پر ایمان میں مضمر ہے۔ چنانچہ آپ کا سارا ذہنی بار ہلکا ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین حاصل ہو گیا کہ اس طرح نہ صرف اپنی قوم بلکہ ساری دنیا کو ان خرابیوں اور برائیوں سے نکالا جا سکتا ہے جن میں اس وقت عرب کے علاوہ باقی ساری دنیا بھی مبتلا تھی۔ علاوہ ازیں ﴿وزر﴾ کا دوسرا مفہوم رسالت کی ذمہ داریاں بھی ہو سکتا ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا: ﴿اِنَّاسَنُلْقِيْعَلَيْكَقَوْلًاثَـقِيْلًا﴾[73:5] یہ بوجھ بھی ابتداء نہایت گرانبار تھا جبکہ آغاز دعوت پر مخالفتوں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہاڑ جیسا حوصلہ عطا کر کے اس کمر توڑ بوجھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن سے اتار دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذمہ داریاں نباہنے کے لیے دل و جان سے مستعد ہو گئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔