(آیت 9){ فَاَمَّاالْيَتِيْمَفَلَاتَقْهَرْ:} آپ نے یتیمی اور اس کی تلخی اور بے چارگی دیکھی ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح آپ کو جگہ دی اور آپ پر بے پناہ مہربانیاں فرمائیں، اب دونوں چیزوں کا تقاضا ہے کہ یتیم پر سختی نہ کرو بلکہ زیادہ سے زیادہ حسن سلوک کرو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9۔ 1 بلکہ اس کے ساتھ نرمی واحسان کا معاملہ کر۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ لہٰذا کسی یتیم [8] پر سختی نہ کیجیے
[8] یتیم کی کفالت :۔
یعنی جس طرح ہم نے تمہاری یتیمی کے دوران ہر مرحلہ پر تمہارا خیال رکھا اسی طرح تم بھی یتیموں سے بہترین سلوک کرو۔ نہ انہیں دباؤ نہ ان پر سختی کرو، نہ انہیں بے یار و مدد گار چھوڑ دو بلکہ ان کی ضرورتوں کا پورا پورا خیال رکھا کرو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے مسلمانوں کو بھی یتیموں کی کفالت اور ان سے حسن سلوک کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ: میں اور یتیم کا کفیل جنت میں اس طرح (اکٹھے) ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اور وسطی انگلی کی طرف اشارہ کیا اور انہیں تھوڑا سا کھول دیا۔ [بخاری، کتاب الادب۔ باب فضل من یعول یتیما]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔