وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰی ؕ﴿۸﴾
اور اس نے تجھے تنگدست پایا تو غنی کر دیا۔
En
اور تنگ دست پایا تو غنی کر دیا
En
اور تجھے نادار پاکر تونگر نہیں بنا دیا؟
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 8) {وَ وَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰى: ”عَالَ يَعِيْلُ عَيْلاً وَعَيْلَةً“} (ض) فقیر ہونا۔ {” عَآىِٕلًا “} فقیر۔ سورۂ توبہ میں فرمایا: «وَ اِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ» [التوبۃ: ۲۸] ”اور اگر تم کسی قسم کے فقر سے ڈرتے ہو تو اللہ جلد ہی تمھیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہوگئے، انھوں نے اپنی میراث میں ایک لونڈی ام ایمن کے علاوہ کوئی زیادہ مال نہیں چھوڑا۔ بچپن میں اپنے فقر کا حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیان فرمایا، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا بَعَثَ اللّٰهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَی الْغَنَمَ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ وَأَنْتَ؟ فَقَالَ نَعَمْ، كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلٰی قَرَارِيْطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ] [بخاري، الإجارۃ، باب رعی الغنم علی قراریط: ۲۲۶۲] ”اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا جس نے بھیڑ بکریاں نہ چرائی ہوں۔“ آپ کے صحابہ نے کہا: ”اور آپ نے بھی (چرائی ہیں)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں انھیں مکہ والوں کے لیے چند قیراطوں پر چرایا کرتا تھا۔“ ظاہر ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی یا ابو طالب کی بھیڑ بکریاں ہی ہوتیں تو آپ کو اہلِ مکہ کی بھیڑ بکریاں اجرت پر چرانے کی کیا ضرورت تھی۔ اتنے افلاس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس طرح غنی کر دیا کہ مکہ کی سب سے مال دار خاتون خدیجہ رضی اللہ عنھا نے پہلے آپ کو تجارت میں شریک کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کر لیا اور اپنا تمام مال آپ کے حوالے کر دیا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ آپ کے پاس بنو نضیر، بنو قریظہ اور خیبر، بحرین اور یمن وغیرہ کی غنیمتوں اور خراج کے ڈھیر لگ گئے۔ یہ مالی غنا تھا، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا قلبی غنا بھی عطا فرمایا تھا کہ آپ اس طرح بے دریغ خرچ کرتے تھے جیسے آپ کو فقر کا کوئی خوف ہی نہ ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 تونگر کا مطلب ہے کہ اپنے سوا تجھ کو ہر ایک سے بےنیاز کردیا، پس تو فقر میں صابر اور غنا میں شاکر رہا ہے۔ جیسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تونگری کثرت ساز و سامان کا نام نہیں اصل تونگری تو دل کی تونگری ہے۔ (صحیح مسلم)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ اور آپ کو مفلس پایا [7] تو مالدار کر دیا
[7] آپ ﷺ کا بچپن :۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد نے میراث میں صرف ایک اونٹنی اور ایک لونڈی چھوڑی تھی۔ آپ کی رضاعت کا مسئلہ سامنے آیا تو سب دائیوں نے آپ کی رضاعت سے اس بنا پر انکار کر دیا کہ آپ یتیم ہیں۔ والد موجود نہیں گھرانہ بھی اتنا مالدار نہیں تو یہاں سے کیا ملے گا۔ آخر یہ سعادت حلیمہ سعدیہ کے ہاتھ آئی اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعت کو اس لیے قبول کر لیا کہ کسی امیر گھرانے کا بچہ انہیں ملا ہی نہیں تھا اور انہوں نے یہ سمجھ کر رضاعت قبول کی کہ کچھ ہونا بہرحال نہ ہونے سے بہتر ہے۔ آٹھ سال کی عمر کو پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب فوت ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا ابو طالب کی کفالت میں آ گئے۔ ابو طالب خود عیالدار اور مفلس تھے۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قیراط کی مزدوری پر مکہ والوں کی بکریاں بھی چرائی تھیں اور جو معاوضہ ملتا وہ ابو طالب کے حوالہ کر دیتے۔ ذرا بڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام کے تجارتی سفروں میں حصہ لینے لگے۔ حسن معاملت کی بنا پر انہی ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت، امانت اور دیانت کا چرچا ہو گیا۔ اس پر مکہ کی ایک بیوہ اور مالدار خاتون نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضاربت کی بنا پر اچھی خاصی رقم دے دی۔ واپس آئے تو سیدہ خدیجہؓ کے غلام زید بن حارثہ نے، جو شریک سفر تھے آپ کی امانت، دیانت کی انتہائی تعریف کی۔ جس سے متاثر ہو کر سیدہ خدیجہؓ نے خود نکاح کی پیش کش کی۔ یہ خاتون مالدار بھی تھیں، حسین بھی تھیں۔ لہٰذا معززین مکہ کی طرف سے ان کو کئی بار نکاح کے پیغام آئے لیکن آپ سب کو رد کرتی رہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے خود نکاح کا پیغام بھیج دیا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کر لیا اور 25 سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چالیس سالہ بیوہ خاتون سیدہ خدیجہؓ کے ساتھ شادی ہو گئی۔ نکاح کے بعد سیدہ خدیجہؓ نے اپنا سارا مال و دولت اور غلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحویل میں دے دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند دنوں تو تجارت کی مگر جلدی ہی یہ سارا مال اللہ کی راہ میں محتاجوں، بیواؤں، بے روزگاروں اور ضرورتمندوں کو دے دیا کیونکہ آپ طبعاً امیری کی بجائے فقر کو پسند کرتے تھے اور یہی غنا کی سب سے بہترین قسم ہے کہ مالدار ہونے کے باوجود انسان فقر کو ترجیح دے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے اموال غنائم میں پانچواں حصہ مقرر کر دیا اور اموال فے سارے کے سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحویل میں دے دیے۔ مگر اتنے مال و دولت اور حکومت کے باوجود آپ سارا مال و دولت تقسیم کر دیتے تھے۔ بقدر کفاف اپنی گھریلو ضرورتوں کے لیے رکھ لیتے تھے اور ساری زندگی دولت پر فقر کو ترجیح دی۔ اس آیت میں آپ کی ابتدائی مفلسی اور اس کے بعد آپ کے اسی قسم کے غنا کا ذکر ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔