ترجمہ و تفسیر — سورۃ الضحى (93) — آیت 6

اَلَمۡ یَجِدۡکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی ۪﴿۶﴾
کیا اس نے تجھے یتیم نہیں پایا، پس جگہ دی۔ En
بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ (بےشک دی)
En
کیا اس نے تجھے یتیم پا کر جگہ نہیں دی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) {اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى: آوَي يُؤْوِيْ إِيْوَاءً} (افعال) جگہ دینا۔ اس میں آپ کے ابتدائی حالات کا بیان ہے، آپ ماں کے پیٹ میں تھے کہ والد فوت ہوگئے۔ والدہ نے آپ کو پالا۔ چھ برس کے تھے کہ والدہ فوت ہو گئیں، پھر دادا نے پرورش کی۔ آٹھ برس کے تھے کہ وہ بھی فوت ہوگئے، پھر چچا ابوطالب نے بیٹوں سے بڑھ کر پالا۔ یہ سب اسباب اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے فضل سے مہیا کیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 یعنی باپ کے سہارے سے بھی محروم تھا، ہم نے تیری دست گیری اور چارہ سازی کی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ کیا اس نے آپ کو یتیم نہ پایا [5] پھر ٹھکانا فراہم کیا
[6] آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچپن ہی سے کفر و شرک سے بیزار تھے۔ جھوٹ، بد دیانتی اور اخلاق رذیلہ سے آپ کو طبعاً نفرت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مالک و خالق حقیقی کو ٹھیک طرح پہچانتے تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ گمراہی میں پڑے ہوئے معاشرہ کی اصلاح کیسے ممکن ہے؟ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جاہلیت کے اس تاریک دور میں پانچ چھ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم خیال اور ہمنوا تھے جن میں سر فہرست سیدنا ابو بکر صدیقؓ کا نام آتا ہے۔ یہ لوگ بھی شرک اور دوسری معاشرتی برائیوں سے سخت متنفر تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملہ میں سب سے زیادہ متفکر رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تن تنہا پہاڑوں کی غاروں میں چلے جاتے۔ وہاں جا کر مالک حقیقی سے لو لگاتے اور سوچتے رہتے کہ وہ کون سا طریق کار اختیار کیا جا سکتا ہے جس سے مخلوق خدا کو کفر و شرک کی گمراہیوں سے بچایا جا سکتا ہے؟ چنانچہ آپ اسی غرض سے غار حرا میں مقیم تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی بار جبریل امین کا نزول ہوا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دیرینہ تڑپ کو پورا کرنے کی راہ ہموار کر دی جو ایک عرصہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں موجزن تھی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان اور نعمت کا ذکر فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ اس آیت میں ضالاً کا لفظ استعمال ہوا اور ﴿ضَلَّ کا لفظ عربی زبان میں مندرجہ ذیل چھ معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
﴿ضلّ﴾ کا مفہوم :۔
﴿ضَلَ ّکا بنیادی معنی راستہ کھو دینا یا گم کر دینا ہے۔ مثلاً ایک شخص کسی ایسے مقام تک جا پہنچا ہے جہاں آگے یا تو کئی راستے ہو جاتے ہیں یا کسی ایک راستہ کا بھی نشان گم ہو جاتا ہے اور وہ وہاں یہ سوچنے لگتا ہے کہ اب کیا کرے؟ وہیں کھڑے کا کھڑا رہ جائے؟ یا اگر کوئی راستہ اختیار کرے تو کون سی راہ اختیار کرے؟ کسی شخص کے اس طرح راہ گم کر دینے کو لفظ ﴿ضَلَّ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس آیت میں ضالا کا یہی مفہوم ہے۔ آپ ضالّ کن معنوں میں تھے؟۔
2۔ پھر کبھی انسان اسی حیرانگی کے عالم میں کسی غلط راستے پر بھی جا پڑتا ہے۔ اب اگر یہ غلط راستے پر پڑنا غیر ارادی طور پر اور سہواً ہو تو ﴿ضَلَّ کے معنی بھولنا ہوں گے۔ جیسے فرمایا: ﴿اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰيهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰيهُمَا الْاُخْرٰي [282:2] یعنی اگر ان دونوں عورتوں میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔
3۔ اور اگر غلط راستے پر پڑنا اور راہ راست سے ہٹ جانا ارادہ کے ساتھ یعنی عمداً ہو تو یہ گناہ ہے جیسے فرمایا: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَاالضَّالِيْنَ [1: 7] یعنی نہ تو ان لوگوں کی راہ دکھانا جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ گمراہوں گی۔ اور احادیث میں یہ صراحت ملتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عدی بن حاتم کو فرمایا تھا کہ: ﴿مَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ الفاتحہ سے مراد یہود اور ﴿ضَالِّيْنَ سے مراد نصاریٰ ہیں جو عقیدہ تثلیث کے موجد اور قائل تھے۔
4۔ اور کبھی یہ لفظ کسی چیز کے اپنے وجود کو کھو کر دوسری چیز کے مل جانے کے معنوں میں آتا ہے جیسے کافر کہتے ہیں کہ: ﴿وَقَالُوْٓا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِي الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ڛ بَلْ هُمْ بِلِقَاۗئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ یعنی جب ہم زمین میں مل کر زمین ہی بن جائیں گے تو کیا از سر نو پیدا ہوں گے؟ 5۔ اور کبھی یہ لفظ ایسے کام کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو رہا ہو یعنی جس غرض کے لیے کوئی کام کیا جائے وہ پوری نہ ہو۔ جیسے فرمایا: ﴿اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا [104:18] یعنی وہ لوگ جن کی سعی دنیا میں برباد ہو گئی اور وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔ 6۔ اور کبھی یہ لفظ کسی کی محبت میں فریفتہ ہونے پر بھی استعمال ہوتا ہے جیسے یوسفؑ کے بھائیوں نے اپنے باپ سے کہا:﴿تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ یعنی اللہ کی قسم! تم تو یوسف کی اسی پرانی محبت میں (ابھی تک) مبتلا ہو۔ اس آیت میں پہلا اور چھٹا دونوں معنی استعمال ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں معنی آپ کی نبوت سے پہلی زندگی سے مطابقت رکھتے ہیں اور ترجمہ میں پہلا معنی اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ اس لفظ کا بنیادی معنی وہی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
ابن ابی شیبہ میں ہے، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف]‏‏‏‏
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔
کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔
اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔
پھر فرمایا کہ ’ راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» ۱؎ [42-الشورى:52]‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی ‘۔
بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا ‘، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔‏‏‏‏ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو[صحیح بخاری:6446]‏‏‏‏
صحیح مسلم شریف میں ہے { اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی }۔ [صحیح مسلم:1054]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ ’ یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول ‘۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔‏‏‏‏
’ سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر ‘۔
پھر فرمایا کہ ’ اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو ‘۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا { «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے }۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے }۔ [مسند احمد:375/4:حسن]‏‏‏‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔
بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو۱؎ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابوداؤد میں ہے { اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا }۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ { جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی }۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی }۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ قرآن مراد ہے۔‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔‏‏‏‏ محمد بن اسحاق کہتے ہیں جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔‏‏‏‏
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔