ترجمہ و تفسیر — سورۃ الضحى (93) — آیت 4

وَ لَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی ؕ﴿۴﴾
اور یقینا پیچھے آنے والی حالت تیرے لیے پہلی سے بہتر ہے۔ En
اور آخرت تمہارے لیے پہلی (حالت یعنی دنیا) سے کہیں بہتر ہے
En
یقیناً تیرے لئے انجام آغاز سے بہتر ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4){ وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى:} اس میں آپ کو تسلی دلائی کہ ہر آنے والا لمحہ آپ کے لیے پہلے لمحہ سے بہتر آیا ہے۔ اسی طرح آئندہ بھی بعد کی ہرحالت آپ کے لیے پہلی سے بہتر ہوگی۔ نبوت کے بعد کی زندگی آپ کے لیے پہلے سے بہتر اور آخرت کی زندگی دنیا سے بہتر ہو گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 یا آخرت دنیا سے بہتر ہے، دونوں مفہوم معانی کے اعتبار سے صحیح ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اور آپ کے لیے [3] آخری دور ابتدائی دور سے یقیناً بہتر ہے
[4] آپ پر اللہ کے انعامات :۔ آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کیا کچھ دیا تھا؟
اس بات کا احاطہ ہم نہیں کر سکتے بلکہ ہم تو یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ کونسی عز و شرف کی بات تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے عطا نہ کی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایسی جماعت عطا کی جن میں سے ایک ایک فرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان تک فدا کرنے پر فخر محسوس کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا غیر مشروط مطاع بنایا۔ ان کا معلم اور مزکی بنایا۔ اپنی کتاب کا مفسر بنایا۔ پورے عرب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوششوں سے کفر و شرک کا مکمل طور پر استیصال ہو گیا۔ پورے جزیرہ عرب میں اسلام کا غلبہ ہو گیا۔ آپ 23 سال کے قلیل عرصہ میں ایک وحشی، اجڈ اور ایک دوسرے کے خون کی پیاسی قوم کو دنیا بھر کی تہذیب و تمدن کی علمبردار قوم بنا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد آپ کی یہ تحریک پوری دنیا پر چھا گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قلیل عرصہ میں ایسا تمدنی، اخلاقی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی انقلاب بپا کیا جس کی نظیر پوری دنیا کی تاریخ ڈھونڈھنے سے کہیں نہیں ملتی۔ یہ سب کچھ کیا تھا؟ یہ اللہ کی رحمت اور عطا تھی جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا کچھ عطا کریں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو جائیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔