وَ الَّیۡلِ اِذَا سَجٰی ۙ﴿۲﴾
اور رات کی جب وہ چھا جائے!
En
اور رات (کی تاریکی) کی جب چھا جائے
En
اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 1 میں تا آیت 3 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
2۔ 1 جب ساکن ہوجائے، یعنی جب اندھیرا مکمل چھا جائے، کیونکہ اس وقت ہر چیز ساکن ہوجاتی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ اور رات کی جب وہ سنسان [1] ہو جائے
[1] ﴿سَجٰي﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿سَجٰی﴾ یعنی رات کا سنسان اور خاموش ہونا، نیز اس لفظ میں دوسری چیزوں کو چھپا لینے کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ خواہ یہ تصور ظاہری طور پر ہو جیسے ﴿سَجَي الْمَيّت﴾ بمعنی میت پر چادر ڈال کر اسے چھپا دینا یا معنوی طور پر ہو جیسے ﴿سَج﴾ معائب اخیک بمعنی اپنے بھائی کے عیبوں کو چھپاؤ۔ گویا اس لفظ میں پر سکون ہونے اور چھپانے کے دونوں معنی پائے جاتے ہیں۔ یعنی رات کا اتنا حصہ گزر چکا ہو کہ سب لوگ سو چکے ہوں اور تاریکی بھی پوری طرح چھا چکی ہو۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے چاشت کے وقت کی قسم کھائی ہے۔ جب سورج بلند ہو چکا ہوتا ہے اور لوگ اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اور یہ وقت اس کے بالکل برعکس اور متضاد ہے۔ اور ان دونوں متضاد حالتوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراض ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چاشت کا وقت تو اللہ کی رحمت کا وقت ہے اور گئی رات کا وقت اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا وقت ہے۔ اس لیے کہ دونوں اوقات کے اپنے اپنے فوائد ہیں۔ اگر ہمیشہ دن ہی رہتا تو یہ بھی لوگوں اور جانداروں کے لیے سخت اذیت کا باعث بن جاتا اور اگر ہمیشہ رات رہتی تو بھی یہی بات تھی۔ اسی طرح وحی کے آنے کے وقت کو اللہ کی رحمت کا وقت اور نہ آنے کے وقت کو اللہ کی ناراضگی کا وقت نہیں قرار دیا جا سکتا۔ وحی کی حالت میں اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لذت و سرور حاصل ہوتا تھا لیکن یہ وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اتنا اعصاب شکن اور تکلیف دہ ہوتا تھا کہ سردیوں میں بھی آپ کو پسینہ چھوٹ جاتا تھا لہٰذا ضروری تھا کہ وحی کے بعد آپ کو آرام کا وقفہ دیا جائے اور یہ وقفہ ابتداًء زیادہ تھا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت آہستہ آہستہ اس بار وحی کو برداشت کرنے کے قابل ہوتی گئی تو یہ وقفہ بھی کم ہوتا گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
صحیح البخاری میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1124]
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے «وَالضُّحَى» سے «وَمَا قَلَى» تک کی آیتیں اتاریں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1797]
اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُع دَمِيتِ وَفِي سَبِيل اللَّه مَا لَقِيت؟» یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔“ طبعیت کچھ ناساز ہو جانے کی وجہ سے دو تین رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے جس پر اس عورت نے وہ ناشائستہ الفاظ نکالے اور یہ آیتیں نازل ہوئیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6146] کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی اس پر اللہ کی مار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کا زخمی ہونا، اور اس موزوں کلام کا بےساختہ زبان مبارک سے ادا ہونا تو بخاری و مسلم میں بھی ثابت ہے۔ لیکن ترک قیام کا سبب اسے بتانا اور اس پر ان آیتوں کا نازل ہونا یہ غریب ہے۔
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے «وَالضُّحَى» سے «وَمَا قَلَى» تک کی آیتیں اتاریں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1797]
اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُع دَمِيتِ وَفِي سَبِيل اللَّه مَا لَقِيت؟» یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔“ طبعیت کچھ ناساز ہو جانے کی وجہ سے دو تین رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے جس پر اس عورت نے وہ ناشائستہ الفاظ نکالے اور یہ آیتیں نازل ہوئیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6146] کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی اس پر اللہ کی مار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کا زخمی ہونا، اور اس موزوں کلام کا بےساختہ زبان مبارک سے ادا ہونا تو بخاری و مسلم میں بھی ثابت ہے۔ لیکن ترک قیام کا سبب اسے بتانا اور اس پر ان آیتوں کا نازل ہونا یہ غریب ہے۔
ابن جریر میں ہے کہ { ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ کا رب آپ سے کہیں ناراض نہ ہو گیا ہو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37512:مرسل]
اور روایت میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ سبب بیان کیا اور اس پر یہ آیتیں اتریں }، یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام تو اس میں محفوظ نہیں معلوم ہوتا ہاں یہ ممکن ہے کہ ام المومنین نے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن اسحاق اور بعض سلف رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے تھے اور بہت ہی قریب ہو گئے تھے اس وقت اسی سورت کی وحی نازل فرمائی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وحی کے رک جانے کی بنا پر مشرکین کے اس ناپاک قول کی تردید میں یہ آیتیں اتریں۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے دھوپ پڑنے کے وقت، دن کی روشنی، اور رات کے سکون اور اندھیرے کی قسم کھائی جو قدرت اور خلق خالق کی صاف دلیل ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ۱؎ [92-الليل:2-1] اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96]، مطلب یہ ہے کہ اپنی اس قدرت کا یہاں بھی بیان کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا، نہ تجھ سے دشمنی کی، تیرے لیے آخرت اس دنیا سے بہت بہتر ہے ‘۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ تارک دنیا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔
اور روایت میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ سبب بیان کیا اور اس پر یہ آیتیں اتریں }، یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام تو اس میں محفوظ نہیں معلوم ہوتا ہاں یہ ممکن ہے کہ ام المومنین نے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن اسحاق اور بعض سلف رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے تھے اور بہت ہی قریب ہو گئے تھے اس وقت اسی سورت کی وحی نازل فرمائی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وحی کے رک جانے کی بنا پر مشرکین کے اس ناپاک قول کی تردید میں یہ آیتیں اتریں۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے دھوپ پڑنے کے وقت، دن کی روشنی، اور رات کے سکون اور اندھیرے کی قسم کھائی جو قدرت اور خلق خالق کی صاف دلیل ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ۱؎ [92-الليل:2-1] اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96]، مطلب یہ ہے کہ اپنی اس قدرت کا یہاں بھی بیان کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا، نہ تجھ سے دشمنی کی، تیرے لیے آخرت اس دنیا سے بہت بہتر ہے ‘۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ تارک دنیا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔
مسند احمد میں ہے { سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بورئیے پر سوئے، جسم مبارک پر بورئیے کے نشان پڑ گئے۔ جب بیدار ہوئے تو میں آپ کی کروٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا اے اللہ کے رسول! ہمیں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ اس بورئیے پر کچھ بچھا دیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا واسطہ؟ میں کہاں، دنیا کہاں؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس راہرو سوار کی طرح ہے جو کسی درخت تلے ذرا سی دیر ٹھہر جائے پھر اسے چھوڑ کر چل دے“ }۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2377،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ’ تیرا رب تجھے آخرت میں تیری امت کے بارے میں اس قدر نعمتیں دے گا کہ تو خوش ہو جائے، ان کی بڑی تکریم ہو گی اور آپ کو خاص کر کے حوض کوثر عطا فرمایا جائے گا۔ جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے ہوں گے جس کی مٹی خالص مشک کی ہو گی ‘۔ یہ حدیثیں عنقریب آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
پھر فرمایا ’ تیرا رب تجھے آخرت میں تیری امت کے بارے میں اس قدر نعمتیں دے گا کہ تو خوش ہو جائے، ان کی بڑی تکریم ہو گی اور آپ کو خاص کر کے حوض کوثر عطا فرمایا جائے گا۔ جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے ہوں گے جس کی مٹی خالص مشک کی ہو گی ‘۔ یہ حدیثیں عنقریب آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
ایک روایت میں ہے کہ جو خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملنے والے تھے وہ ایک ایک کر کے آپ کو بتا دئیے گئے۔ آپ بہت خوش ہوئے اس پر یہ آیت اتری۔ جب ایک ہزار محل آپ کو دئیے گئے ہر ہر محل میں پاک بیویاں اور بہترین غلام ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37513] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس کی سند صحیح ہے اور بہ ظاہر ایسی بات بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے روایت نہیں ہو سکتی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد شفاعت ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد شفاعت ہے۔