(آیت 11){ وَاَمَّابِنِعْمَةِرَبِّكَفَحَدِّثْ:} اور شکر ادا کرنے کے لیے اپنے رب کی نعمتوں کا تذکرہ کرتے رہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 یعنی اللہ نے تجھ پر جو احسانات کیے ہیں، مثلا ہدایت اور رسالت و نبوت سے نوازا، یتیمی کے باوجود تیری کفالت و سرپرستی کا انتظام کیا، تجھے قناعت و تونگری عطا کی وغیرہ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ اور آپ پر آپ کے پروردگار نے جو انعام کیا ہے اسے بیان [10] کیا کیجیے۔
[10] تحدیث نعمت کا مطلب :۔
کچھ نعمتوں کا ذکر تو اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں کر دیا۔ ان کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کے بے شمار احسانات تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے ذکر اور اظہار کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تہہ دل سے اللہ کا شکر ادا کیا جائے۔ اور قطعاً یہ نہ سمجھا جائے کہ مجھ میں کوئی خاص اہلیت اور قابلیت تھی جس کی وجہ سے مجھ پر اللہ نے یہ احسان کیے۔ بلکہ انہیں محض اللہ کے فضل و کرم پر محمول کیا جائے اور ان نعمتوں کا اسی جذبہ کے تحت دوسرے لوگوں کے سامنے بھی اقرار و اعتراف کیا جائے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ اس اقرار و اعتراف میں فخر و مباہات کا شائبہ تک نہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔