(آیت 20،19) {وَمَالِاَحَدٍعِنْدَهٗمِنْنِّعْمَةٍتُجْزٰۤى …:} وہ مال اس لیے خرچ نہیں کرتا کہ کسی کے احسان کا بدلا اتارنا چاہتا ہے، بلکہ خرچ کرنے سے اس کی نیت یہ ہے کہ رب تعالیٰ کی رضا اور جنت میں اس کا دیدار نصیب ہو جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ اس پر کسی کا کوئی احسان نہ تھا جس کا وہ بدلہ چکاتا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔