ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشمس (91) — آیت 7

وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا ۪ۙ﴿۷﴾
اور نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک بنایا! En
اور انسان کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا
En
قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 6 میں تا آیت 8 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 یا جس نے اس درست کیا۔ درست کرنے کا مطلب اسے مناسب الا عضاء بنایا بےڈھنگا نہیں بنایا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اور جان کی اور اس ذات کی جس [7] نے اسے ٹھیک کر کے بنایا
[7] انسان فطرتاً نیک اور موحد پیدا کیا گیا :۔
یعنی نفس کو پیدا کرنے کے بعد اس میں وہ تمام ظاہری اور باطنی قوتیں رکھ دیں جن سے کام لے کر وہ ایسے سب کام سرانجام دے سکے جن کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿سَوّٰهَا کے مفہوم میں یہ بات شامل ہے کہ انسان پیدائشی طور پر نہ گنہگار پیدا ہوا ہے جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے اور اسی غرض سے انہوں نے کفارہ مسیح کا عقیدہ اختراع کیا اور نہ ہی انسان شرپسند پیدا ہوا ہے جیسا کہ بعض گمراہ فرقوں کا خیال ہے۔ بلکہ انسان کی فطرت میں راستی اور سچائی ودیعت کی گئی ہے۔ جھوٹ بولنا وہ بعد میں سیکھتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی کے جذبہ سے مل جل کر رہنا چاہتا ہے، دوسروں کی بد خواہی اور ایذا پہنچانا وہ بعد میں سیکھتا ہے۔ اس کی فطرت میں توحید ہے، شرک کرنا وہ بعد میں سیکھتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر بچہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
(مزید تفصیل کے لیے سورۃ بقرہ آیت نمبر 213 پر حاشیہ نمبر 281 ملاحظہ فرمائیے)

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔