(آیت 6){ وَالْاَرْضِوَمَاطَحٰىهَا: ”طَحَايَطْحُوْطَحْوًا“} (ن) اور {”دَحَايَدْحُوْدَحْوًا“} (ن) کا ایک ہی معنی ہے، بچھانا۔ اور زمین کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے بچھایا!
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 یا جس نے اسے ہموار کیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اسے بچھایا [6]
[6] یعنی زمین کو اس طرح پھیلا دیا کہ وہ مخلوق کی بود و باش کے قابل بن جائے۔ انہیں کھانے کو رزق بھی فراہم ہوتا رہے اور رہائش بھی۔ آیت نمبر 5 کی طرح اس کے بھی دونوں مطلب ہو سکتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں