ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشمس (91) — آیت 15

وَ لَا یَخَافُ عُقۡبٰہَا ﴿٪۱۵﴾
اور وہ اس (سزا) کے انجام سے نہیں ڈرتا۔ En
اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں
En
وه نہیں ڈرتا اس کے تباه کن انجام سے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) {وَ لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا: هَا} ضمیر کا مرجع وہ { دَمْدَمَةٌ } ہے جو { فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ } کے ضمن میں موجود ہے۔ یعنی دنیا کے بادشاہ کسی کو قتل کرتے ہیں تو ڈرتے ہیں کہ نامعلوم اس کا انجام کیا ہوگا؟ مقتول کا کوئی وارث بدلا لینے کے لیے نہ اٹھ کھڑا ہو یا ملک میں بغاوت نہ ہو جائے، لیکن اللہ تعالیٰ کو ایسا کوئی خطرہ نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ اور وہ ایسی تباہی کے انجام [15] سے ڈرتا نہیں۔
[15] یعنی دنیا دار بادشاہ جب کسی دوسری قوم یا ملک پر حملہ کرتے یا ان سے اپنا بدلہ لینا چاہتے ہیں تو اپنی اس کارروائی کے نتائج و عواقب پر نظر رکھتے ہیں کہ مثلاً اس حملہ کا رد عمل کیا ہو گا؟ کہیں ہماری اپنی ہی رعیت تو اس کے خلاف نہ اٹھ کھڑی ہو گی؟ یا مخالف قوت ہمارے حملہ کے رد عمل کے طور پر کیا کچھ کارروائی کرنے کی اہلیت رکھتی ہے غرض بیسیوں قسم کے خیالات ان کے ذہن میں آتے ہیں جن کا توڑ وہ پہلے سوچ لیتے ہیں لیکن اللہ جب کسی قوم کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے تو اسے کسی بات کو سوچنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔