(آیت 11) {كَذَّبَتْثَمُوْدُبِطَغْوٰىهَاۤ: ”طَغْوٰي“ (سركشی) ”طَغَايَطْغُوْ“} (ن) کا مصدر ہے، جیسا کہ {”دَعَايَدْعُوْ“} کا مصدر{”دَعْوٰي“} ہے۔ بطور مثال تاریخ میں سے ایک قوم کا ذکر فرمایا، جس نے سرکشی کی وجہ سے اپنے آپ کو مٹی میں دبا دیا۔ ثمود صالح علیہ السلام کی قوم تھی، ان کے معجزہ طلب کرنے پر انھیں ایک اونٹنی دی گئی اور انھیں کہا گیا کہ ایک دن اس کے پینے کی باری ہوگی اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کی۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۱۵۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 طغیان، وہ سرکشی جو حد سے تجاوز کر جائے اسی طغیان نے انہیں تکذیب پر آمادہ کیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر [10] (حق کو) جھٹلایا
[10] اسی حقیقت کو ایک تاریخی نظیر سے سمجھایا گیا ہے اور اس نظیر کے لیے قوم ثمود کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ ان کا مسکن مکہ کے قریب تھا اور اہل مکہ میں ان کی داستانیں زبان زد عام تھیں۔ یعنی قوم ثمود نے بھی سرکشی کی راہ اختیار کرتے ہوئے اس حقیقت کی پروا نہ کی اور اللہ کی آیات اور اس کے رسول کی تکذیب کی تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔