(آیت 6) {يَقُوْلُاَهْلَكْتُمَالًالُّبَدًا:} یعنی دین حق کی مخالفت یا جاہلانہ رسم و رواج میں روپیہ لٹانے کو بڑا کمال سمجھتا ہے اور اسے فخریہ بیان کرتا ہے۔ (اشرف الحواشی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 یعنی دنیا کے معاملات اور فضولیات میں خوب پیسہ اڑاتا ہے، پھر فخر کے طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ کہتا ہے: میں نے ڈھیروں [5] مال اڑا دیا
[5] ایسی ہی نا جائز خواہشات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ محض نمود و نمائش اور تعلی کی خاطر اپنا مال خرچ کرتا ہے اور جتنا خرچ کرتا ہے اس سے کئی گنا بڑھا چڑھ کر بتاتا ہے کہ میں نے اتنا اور اتنا مال اپنے بیٹے کی شادی پر خرچ کیا تھا یا فلاں رسم کو پورا کرنے پر خرچ کیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔