ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَۃِ ﴿ؕ۱۷﴾
پھر (یہ کہ) ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو رحم کرنے کی وصیت کی۔
En
پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہو جو ایمان لائے اور صبر کی نصیحت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے
En
پھر ان لوگوں میں سے ہو جاتا جو ایمان ﻻتے اور ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 17) {ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} جنت کی بلندیوں پر پہنچنے کے لیے یہی کافی نہیں کہ گردنیں آزاد کرے یا یتیم اور مسکین کو کھانا کھلائے، بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ایمان بھی ضروری ہے، اگر ایمان نہیں تو کوئی عمل قبول نہیں۔ (دیکھیے نساء: ۱۴۴۔ نحل: ۹۷۔ بنی اسرائیل: ۱۹) پھر ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ ایک دوسرے کو صبر اور رحم کرنے کی وصیت اور تاکید بھی ضروری ہے۔ سورۂ عصر میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے۔
{” ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ مشکل گھاٹی کی چڑھائی کے لیے جو امور ضروری ہیں ان میں پہلے گردن چھڑانا اور یتیم یا مسکین کو کھانا کھلانا ہے، پھر اس کے بعد ایمان لانا اور حق و مرحمت کی وصیت کرنا ہے، مگر اہلِ علم فرماتے ہیں کہ{” ثُمَّ “} ہمیشہ ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہوتا، بعض اوقات ترتیب ذکری کے لیے بھی ہوتا ہے، یعنی موقع کی مناسبت سے بعد کی ایک چیز پہلے ذکر کر دی جاتی ہے۔ یہاں مال داروں کے لیے خرچ کرنا چونکہ بہت مشکل کام ہے اس لیے پہلے اس کا ذکر فرمایا، پھر ایمان اور تواصی بالحق والمرحمہ کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ایمان کے بغیر گردن چھڑانا، کھانا کھلانا یا نیکی کا کوئی بھی کام بے سود ہے۔
{” ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ مشکل گھاٹی کی چڑھائی کے لیے جو امور ضروری ہیں ان میں پہلے گردن چھڑانا اور یتیم یا مسکین کو کھانا کھلانا ہے، پھر اس کے بعد ایمان لانا اور حق و مرحمت کی وصیت کرنا ہے، مگر اہلِ علم فرماتے ہیں کہ{” ثُمَّ “} ہمیشہ ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہوتا، بعض اوقات ترتیب ذکری کے لیے بھی ہوتا ہے، یعنی موقع کی مناسبت سے بعد کی ایک چیز پہلے ذکر کر دی جاتی ہے۔ یہاں مال داروں کے لیے خرچ کرنا چونکہ بہت مشکل کام ہے اس لیے پہلے اس کا ذکر فرمایا، پھر ایمان اور تواصی بالحق والمرحمہ کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ایمان کے بغیر گردن چھڑانا، کھانا کھلانا یا نیکی کا کوئی بھی کام بے سود ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ اعمال خیر، اسی وقت نافع اور اخروی سعادت کا باعث ہونگے جب ان کا کرنے والا صاحب ایمان ہوگا۔ 17۔ 2 اہل ایمان کی صفت ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ پھر (اس کے ساتھ یہ کہ) وہ ان لوگوں سے ہوا جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر کرنے کی اور ایک دوسرے پر رحم کرنے کی وصیت [12] کی۔
[12] ﴿اصحاب اليمين﴾ کے لئے کونسی صفات ضروری ہیں :۔
اس آیت سے بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک یہ کہ انسان کتنے ہی اچھے اعمال بجا لائے جب تک ایماندار نہ ہو، اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو، اس کے اعمال آخرت میں کسی کام نہیں آئیں گے بلکہ برباد ہو جائیں گے۔ دوسری یہ کہ صرف ایمان لانا ہی کافی نہیں بلکہ باقی ایمانداروں کا ساتھ دینا بھی ضروری ہے تاکہ اسلام کو غالب کرنے اور غالب رکھنے کے راستہ میں جو مشکلات پیش آتی ہیں۔ ان کی اجتماعی طور پر مدافعت کی جائے۔ تیسری یہ کہ اسلام کی نظر میں اجتماعی زندگی ہی پسندیدہ ہے۔ تاکہ اسلامی معاشرے کے سب افراد ایک دوسرے کے دکھ درد اور رنج و راحت میں شریک ہو سکیں۔ اس سلسلے میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
1۔ ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط بنائے رکھتا ہے۔“ پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو قینچی کر لیا۔ [بخاری کتاب الادب باب تعاون المومنین بعضھم بعضاً]
2۔ انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس میں بغض حسد نہ کرو۔ ترک ملاقات نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک ملاقات کرے۔“ [بخاري كتاب الادب باب ما ينتهي عن التحاسد]
چوتھی یہ کہ مسلمان صرف خود ہی صبر نہیں کرتے بلکہ سب ایک دوسرے کو بھی صبر کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ اور صبر کا مفہوم بڑا وسیع ہے۔ ایک مسلمان کی پوری زندگی صبر ہی صبر ہے۔ اسلام کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بھی صبر ہے اور احکام شریعت پر ثابت قدم اور ان کا پابند رہنا بھی صبر ہے۔ پانچویں یہ کہ وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو ایک دوسرے پر رحم کرنے کی تاکید بھی کرتے رہتے ہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
1۔ جو شخص دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پر (اللہ کی طرف سے) بھی رحم نہیں کیا جائے گا۔ [بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الناس والبہائم]
اور ایک دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں۔ ”تم اس مخلوق پر رحم کرو جو زمین میں ہے تم پر وہ ذات رحم کرے گی جو آسمانوں میں ہے۔“
2۔ مسلمان ایک دوسرے پر رحم کرنے، دوستی رکھنے اور مہربانی برتنے میں ایک جسم کی طرح ہیں، جب ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سب اعضاء بے چین ہو جاتے ہیں، نیند نہیں آتی اور بخار چڑھ جاتا ہے۔ [حواله ايضاً]
3۔ ایک دفعہ ایک آدمی سفر کر رہا تھا اسے سخت پیاس لگی۔ پھر ایک کنواں ملا تو اس میں اترا اور پانی پیا۔ باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا ہے۔ اس نے سوچا کہ کتے کو پیاس کی وجہ سے ایسی ہی تکلیف ہو گی جیسے مجھے ہوتی ہے۔ وہ پھر کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھر کر اور اسے منہ میں تھام کر اوپر چڑھا پھر کتے کو پانی پلایا۔ اللہ نے اس کے کام کی قدر کی اور اس کو بخش دیا۔ لوگوں نے عرض کیا ”اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں جانوروں پر رحم کرنے میں بھی ثواب ملے گا“؟ فرمایا ”ہر تازہ کلیجے والے پر ثواب ملے گا۔“ [حواله ايضاً]
4۔ آپ ایک دفعہ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک اعرابی (گنوار) نماز میں ہی کہنے لگا: ”اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے علاوہ اور کسی پر نہ کر“ آپ نے جب نماز سے سلام پھیرا تو اس بدو سے فرمایا ”ارے تم نے تو کشادہ کے آگے بند لگا دیا“ اور کشادہ سے آپ کی مراد اللہ کی رحمت تھی۔ [حواله ايضاً]
1۔ ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط بنائے رکھتا ہے۔“ پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو قینچی کر لیا۔ [بخاری کتاب الادب باب تعاون المومنین بعضھم بعضاً]
2۔ انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس میں بغض حسد نہ کرو۔ ترک ملاقات نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک ملاقات کرے۔“ [بخاري كتاب الادب باب ما ينتهي عن التحاسد]
چوتھی یہ کہ مسلمان صرف خود ہی صبر نہیں کرتے بلکہ سب ایک دوسرے کو بھی صبر کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ اور صبر کا مفہوم بڑا وسیع ہے۔ ایک مسلمان کی پوری زندگی صبر ہی صبر ہے۔ اسلام کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بھی صبر ہے اور احکام شریعت پر ثابت قدم اور ان کا پابند رہنا بھی صبر ہے۔ پانچویں یہ کہ وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو ایک دوسرے پر رحم کرنے کی تاکید بھی کرتے رہتے ہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
1۔ جو شخص دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پر (اللہ کی طرف سے) بھی رحم نہیں کیا جائے گا۔ [بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الناس والبہائم]
اور ایک دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں۔ ”تم اس مخلوق پر رحم کرو جو زمین میں ہے تم پر وہ ذات رحم کرے گی جو آسمانوں میں ہے۔“
2۔ مسلمان ایک دوسرے پر رحم کرنے، دوستی رکھنے اور مہربانی برتنے میں ایک جسم کی طرح ہیں، جب ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سب اعضاء بے چین ہو جاتے ہیں، نیند نہیں آتی اور بخار چڑھ جاتا ہے۔ [حواله ايضاً]
3۔ ایک دفعہ ایک آدمی سفر کر رہا تھا اسے سخت پیاس لگی۔ پھر ایک کنواں ملا تو اس میں اترا اور پانی پیا۔ باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا ہے۔ اس نے سوچا کہ کتے کو پیاس کی وجہ سے ایسی ہی تکلیف ہو گی جیسے مجھے ہوتی ہے۔ وہ پھر کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھر کر اور اسے منہ میں تھام کر اوپر چڑھا پھر کتے کو پانی پلایا۔ اللہ نے اس کے کام کی قدر کی اور اس کو بخش دیا۔ لوگوں نے عرض کیا ”اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں جانوروں پر رحم کرنے میں بھی ثواب ملے گا“؟ فرمایا ”ہر تازہ کلیجے والے پر ثواب ملے گا۔“ [حواله ايضاً]
4۔ آپ ایک دفعہ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک اعرابی (گنوار) نماز میں ہی کہنے لگا: ”اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے علاوہ اور کسی پر نہ کر“ آپ نے جب نماز سے سلام پھیرا تو اس بدو سے فرمایا ”ارے تم نے تو کشادہ کے آگے بند لگا دیا“ اور کشادہ سے آپ کی مراد اللہ کی رحمت تھی۔ [حواله ايضاً]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔