اس آیت کی تفسیر آیت 15 میں تا آیت 17 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
16۔ 1 یعنی جو فقر و غربت کی وجہ سے مٹی پر پڑا ہو، اس کا گھر بار بھی نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی گردن کو آزاد کرنا، کسی بھوکے رشتے دار کو کھانا کھلا دینا، یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعے سے انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے ہی بڑے اجر کا کام ہے، لیکن اگر وہ رشتے دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقے کا، دوسرا صلہ رحمی کا، اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی بڑی فضیلت احادیث میں آئی ہے، آج کل اس کی ایک صورت کسی مقروض کو قرض کے بوجھ سے نجات دلا دینا ہوسکتی ہے، یہ بھی ایک گونہ فک رقبہ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ یا کسی خاکسار [11] مسکین کو
[11] دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنے کے اوصاف :۔
اس گھاٹی پر چڑھنے کے چار کام یہاں بیان کیے گئے ہیں اور ان چاروں کا تعلق اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے ہے۔ جو انسان کو طبعاً ناگوار ہے۔ اوپر ایسے شخص کا ذکر آیا ہے جو اپنے نام و نمود اور شہرت اور شیخی بگھارنے کے لیے مال خرچ کرتا پھر لوگوں میں بڑ ہانکتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اتنا اور اتنا مال فلاں فلاں کاموں میں خرچ کر دیا ہے۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر مال خرچ کرنا ہے تو اس کے بہترین مصرف یہ ہیں کہ مال خرچ کر کے کسی غلام کو آزادی دلا دی جائے۔ اس کی مکاتبت میں اس کی مدد کی جائے۔ قحط کے دنوں میں لوگوں کو غلہ مہیا کیا جائے یا انہیں کھانا کھلایا جائے۔ یتیموں کی پرورش کی جائے۔ اور اگر وہ یتیم قرابتدار بھی ہو تو وہ اور بھی زیادہ پرورش اور امداد کا مستحق ہے۔ یتیموں کے علاوہ دوسرے ضرورت مندوں کی ضروریات کو پورا کیا جائے جن کو رہنے کو کٹیا اور سونے کو بستر، پہننے کو لباس اور کھانے کو غذا بھی میسر نہیں۔ یہی وہ کام ہیں جو ایک انسان کو بلند مرتبہ تک پہنچانے والے ہیں۔ اور یہ سب کام ایسے ہیں جن کی کتاب و سنت میں جا بجا ترغیب دی گئی ہے اور ان کا بڑا ثواب بیان کیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔