اس آیت کی تفسیر آیت 9 میں تا آیت 11 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 یعنی خیر کی بھی شر کی بھی اور ایمان کی بھی، سعادت کی بھی اور بدبختی کی بھی، جیسے فرمایا، بعض نے یہ ترجمہ کیا ہے، ہم نے انسان کی (ماں کے) دو پستانوں کی طرف رہنمائی کردی یعنی وہ عالم شیر خوارگی میں ان سے خوراک حاصل کرے لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ اور اسے دونوں راہیں نہیں دکھا [8] دیں؟
[8] اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ہم نے انسان کے پیدا ہوتے ہی اس کی ماں کی چھاتیوں کی طرف رہنمائی کر دی تاکہ وہ نشو و نما پا سکے۔ اعضائے انسانی کے ذکر کے لحاظ سے یہ مطلب بھی درست ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اسے بھلائی اور برائی کے دونوں راستے بتا دیے۔ اسی کا نام قوت تمیز اور عقل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر ان راہوں کی پوری وضاحت بھی کر دی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔