لَاۤ اُقۡسِمُ بِہٰذَا الۡبَلَدِ ۙ﴿۱﴾
نہیں، میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں!
ہمیں اس شہر (مکہ) کی قسم
میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 1تا4) {لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ …:} قسم سے پہلے {” لَا “} (نہیں) فرما کر ان لوگوں کی بات کی نفی کی گئی ہے جو قسم کے بعد آنے والی بات کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند قسموں کے بعد فرمایا، یقینا ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے، اگر وہ سمجھے کہ میں دنیا میں عیش و آرام کے لیے آیا ہوں تو اس کا خیال غلط ہے۔ اس حقیقت کا یقین دلانے کے لیے پہلی قسم شہر مکہ کی کھائی، جو اس دعوے کی دلیل بھی ہے، کیونکہ اس شہر کی آبادی کی ابتدا، اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کی زندگی، ان کے بعد کی تاریخ، خصوصاً اس شہر میں رہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، آپ کی یتیمی اور بے سروسامانی، نبوت کی ذمہ داری کے بعد اپنی ہی قوم کا جان لینے کے درپے ہوجانا، یہ سب چیزیں اس بات کی شاہد ہیں کہ انسان یقینا مشقت میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جننے والے ماں باپ اور ان کے جنم دیے ہوئے بچے کی قسم ہے۔ ماں باپ کو اولاد کے حصول کی جستجو سے لے کر ان کی پرورش تک جن مصائب سے گزرنا پڑتا ہے اور ان کے جنم دیے ہوئے بچے پر نطفہ ہونے سے لے کر ولادت تک پھر ولادت سے بچپن، جوانی اور بڑھاپے تک جو کچھ گزرتا ہے، وہ سب کچھ اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے۔ اس تمام عرصے میں وہ شروع سے آخر تک سختیاں اور مصیبتیں ہی جھیلتا رہتا ہے، کبھی بیماری میں گرفتار ہے، کبھی رنج میں، کبھی فقر و فاقہ میں، کبھی کسی اور فکر میں۔ اگر کبھی کسی خوشی یا راحت کا کوئی لمحہ آتا بھی ہے تو اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی مصیبت ضرور ہوتی ہے، کوئی اور نہ ہو تو اس کے زوال کی فکر ہی اسے مکدر کرنے کے لیے کافی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں (1)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ میں اس شہر (مکہ) کی قسم کھاتا [1] ہوں
[1] مسلمانوں کے علاوہ کفار مکہ کے ہاں بھی مکہ کی اہمیت و عظمت مسلّم تھی۔ بلکہ کفار مکہ تو اس شہر کی برکت کی وجہ سے کئی طرح کے دنیوی، تجارتی اور سیاسی مفادات بھی حاصل کر رہے تھے۔ عرب بھر میں ان کی عزت و وقار اور دولت و شہرت کا سبب یہی شہر اور اس میں کعبہ کی موجودگی تھی۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ’ اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے ‘۔
صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے }۔
ایک روایت میں ہے کہ { اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1832]
پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔
ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔“
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے ‘۔
جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6،7]، یعنی ’ اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی ‘۔
اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» ۱؎ [95-التين:4] ’ ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ’ اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ‘، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔“
صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے }۔
ایک روایت میں ہے کہ { اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1832]
پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔
ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔“
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے ‘۔
جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6،7]، یعنی ’ اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی ‘۔
اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» ۱؎ [95-التين:4] ’ ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ’ اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ‘، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ ‘ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ’ کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ ‘ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ’ کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی ‘۔
ابن عساکر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف]
پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا ‘۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔
یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» ۱؎ [76-الإنسان:2-3] یعنی ’ ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا ‘۔
پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا ‘۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔
یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» ۱؎ [76-الإنسان:2-3] یعنی ’ ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا ‘۔