ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 74

یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ مَا قَالُوۡا ؕ وَ لَقَدۡ قَالُوۡا کَلِمَۃَ الۡکُفۡرِ وَ کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِسۡلَامِہِمۡ وَ ہَمُّوۡا بِمَا لَمۡ یَنَالُوۡا ۚ وَ مَا نَقَمُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ اَغۡنٰہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ فَاِنۡ یَّتُوۡبُوۡا یَکُ خَیۡرًا لَّہُمۡ ۚ وَ اِنۡ یَّتَوَلَّوۡا یُعَذِّبۡہُمُ اللّٰہُ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۙ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ مَا لَہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۷۴﴾
وہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انھوں نے بات نہیں کہی، حالانکہ بلاشبہ یقینا انھوں نے کفر کی بات کہی اور اپنے اسلام کے بعد کفر کیا اور اس چیز کا ارادہ کیا جو انھوں نے نہیں پائی اور انھوں نے انتقام نہیں لیا مگر اس کا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انھیں اپنے فضل سے غنی کر دیا۔ پس اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کے لیے بہتر ہوگا اور اگر منہ پھیر لیں تو اللہ انھیں دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب دے گا اور ان کے لیے زمین میں نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مدد گار۔ En
یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پاسکے۔ اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کون سا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولت مند کر دیا ہے۔ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور اگر منہ پھیر لیں تو ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دے گا اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا
En
یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا، حاﻻنکہ یقیناً کفر کا کلمہ ان کی زبان سے نکل چکا ہے اور یہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور انہوں نے اس کام کا قصد بھی کیا جو پورا نہ کر سکے۔ یہ صرف اسی بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نے دولت مند کردیا، اگر یہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے، اور اگر منھ موڑے رہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین بھر میں ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ کھڑا ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت74) ➊ {يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا:} منافقین اپنی نجی مجلسوں میں کفریہ باتیں کرتے، مگر پردہ چاک اور راز فاش ہونے پر جھوٹی قسمیں کھا کر مکر جاتے، جب گواہیوں سے بات ثابت ہو جاتی تو بہانہ بنا لیتے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی میں ایسی باتیں کر رہے تھے، آپ نے انھیں سنجیدہ لے لیا ہے اور اپنی قسموں کو بطور ڈھال استعمال کرتے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۶۲) اور توبہ (۴۲، ۵۶، ۱۰۷)۔
➋ { وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ …:} وہ کفر کی بات کیا تھی جو ان منافقوں نے کہی تھی، قرآن مجید نے یہاں اس کی صراحت نہیں فرمائی، اس لیے کہ یہ کوئی ایک آدھ واقعہ نہیں تھا نہ ہی ایک آدھ شخص کی بات تھی، اکثر منافقین بلکہ سبھی کا یہی وتیرہ تھا اور ان لوگوں نے مختلف موقعوں پر کفر کی باتیں کہی تھیں۔ یہاں مثال کے طور پر صرف ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے جو سورۂ منافقون میں مختصر اور بخاری و مسلم میں کچھ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک لڑائی میں تھا تو میں نے عبد اللہ بن ابی سے سنا، وہ کہہ رہا تھا: ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ لوگ منتشر ہو جائیں جو آپ کے اردگرد ہیں اور یہ کہ ہم اگر مدینہ واپس پہنچ گئے تو جو زیادہ عزت والا ہے وہ ذلیل تر کو نکال دے گا۔ میں نے یہ بات اپنے چچا یا عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کی، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، میں نے آپ کو یہ بات بیان کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی طرف پیغام بھیجا، وہ سب قسمیں کھا گئے کہ انھوں نے یہ بات نہیں کہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا قرار دے دیا، مجھے ایسی فکر لاحق ہوئی جو مجھے کبھی لاحق نہ ہوئی تھی تو میں گھر میں بیٹھ گیا۔ میرے چچا نے کہا، تم نے یہ کیا چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھیں جھوٹا قرار دیا اور تم پر ناراض بھی ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ منافقون نازل فرما دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف آدمی بھیجا اور یہ سورت پڑھی اور فرمایا: زید! اللہ تعالیٰ نے تمھیں سچا قرار دیا ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب قولہ: «إذا جاء ک المنافقون…» ‏‏‏‏: ۴۹۰۰، ۴۹۰۱۔ مسلم: ۲۷۷۲]
➌ { وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا …:} یعنی منافقین نے جو ارادہ کیا تھا وہ اپنی مراد کو نہیں پہنچ سکے اور یہ ناکامی اور نامرادی کوئی ایک مرتبہ نہیں ہوئی، بلکہ وہ ہمیشہ اپنے ناپاک منصوبوں اور سازشوں میں ناکام ہوئے، جن کی چند مثالیں یہ ہیں: (1) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہتے تھے اور اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے۔ (2) مجاہدین کے مالی ذرائع بند کرنا چاہتے تھے۔ (3) یہودیوں کو مدینہ میں آباد دیکھنا چاہتے تھے۔ (4) عبد اللہ بن ابی کو تاجِ سلطانی پہنانا چاہتے تھے۔ (5) مسلمانوں کے خلاف مسجد ضرار کا مورچہ بنانا چاہتے تھے۔ (6) تبوک میں رومیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا نام و نشان مٹتا ہوا دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے، مگر سب منصوبوں میں ناکام اور نامراد ہوئے۔ آخری حد جس تک وہ پہنچے وہ جنگ تبوک سے واپسی پر آپ کے قتل کا منصوبہ تھا۔ راستے میں عقبہ ایک بلند، دشوار گزاراور تنگ جگہ تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کروا دیا کہ آپ اس راستے سے جائیں گے، اس لیے ادھر سے کوئی نہ جائے۔ چند منافقین نے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس مقام پر آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ صحیح مسلم کی اس حدیث سے اس واقعہ پر روشنی پڑتی ہے، ابو طفیل بیان فرماتے ہیں کہ عقبہ والے لوگوں میں سے ایک شخص اور حذیفہ رضی اللہ عنہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص راز دار) کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہو گئی، تو وہ کہنے لگا: میں تمھیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ وہ عقبہ والے کتنے آدمی تھے۔ (حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کچھ گریز کیا) تو لوگوں نے کہا: جب وہ پوچھ رہا ہے تو آپ اسے بتا دیں۔ انھوں نے فرمایا: ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ تھے، اگر تو بھی ان میں شامل تھا تو یہ لوگ پندرہ ہو گئے اور میں اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے بارہ تو دنیا کی زندگی میں اور اس دن جب گواہ پیش ہوں گے، دونوں (جہاں) میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں۔ باقی رہے تین تو انھوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کرنے والے کو سنا تھا اور نہ ہمیں معلوم ہو سکا کہ ان لوگوں کا ارادہ کیا ہے۔ [مسلم، صفات المنافقین: 2779/11] بیہقی کی دلائل النبوۃ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں حذیفہ بن یمان اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے انھیں دیکھ کر للکارا تو وہ بھاگ گئے (کیونکہ ان کا منصوبہ خفیہ نہ رہ سکنے کی وجہ سے ناکام ہو گیا)۔ صاحب {هداية المستنير} نے دلائل النبوۃ (۷؍۲۶۰) کا حوالہ دے کر اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ اس روایت سے صحیح مسلم کی حدیث کی وضاحت ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے بارہ منافق ایسے ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے، حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر جائے، ان میں سے آٹھ کے لیے تو پھوڑا کافی ہو گا جو آگ کا چراغ ہو گا، جو ان کے کندھوں میں نکلے گا، یہاں تک کہ ان کے سینوں سے نمودار ہو گا۔ [مسلم، صفات المنافقین، باب صفات المنافقین…: 2779/10]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

74۔ 1 مفسرین نے اس کی تفسیر میں متعدد واقعات نقل کئے ہیں، جن میں منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے جسے بعض مسلمانوں نے سن لیا اور انہوں نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا، لیکن آپ کے استفسار پر مکر گئے بلکہ حلف تک اٹھا لیا کہ انہوں نے ایسی بات نہیں کی۔ جس پر یہ آیت اتری۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا کفر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا مسلمان نہیں رہ سکتا۔ 74۔ 2 اس کی بابت بھی بعض واقعات نقل کئے گئے ہیں۔ مثلاً تبوک کی واپسی پر منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک سازش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے کہ دس بارہ منافقین ایک گھاٹی میں آپ کے پیچھے لگ گئے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باقی لشکر سے الگ تقریباً تنہا گزر رہے تھے ان کا منصوبہ یہ تھا کہ آپ پر حملہ کر کے آپ کا کام تمام کردیں گے اس کی اطلاع وحی کے ذریعے سے آپ کو دے دی گئی جس سے آپ نے بچاؤ کرلیا۔ 75۔ 3 مسلمانوں کی ہجرت کے بعد، مدینہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے وہاں تجارت اور کاروبار کو بھی فروغ ملا، اور اہل مدینہ کی معاشی حالت بہت اچھی ہوگئی تھی۔ منافقین مدینہ کو بھی اس کا خوب فائدہ حاصل ہوا اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہی فرما رہا ہے کہ کیا ان کو اس بات کی ناراضگی ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے غنی بنادیا ہے، بلکہ ان کو تو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے انہیں تنگ دستی سے نکال کر خوش حال بنادیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

74۔ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ”انہوں نے یہ بات نہیں کہی“ حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ بکا تھا [89] اور اسلام لانے کے بعد کافر ہوئے ہیں۔ نیز انہوں نے ایسی بات کا ارادہ کر رکھا تھا جسے وہ کر نہ سکے۔ [90] اور انہیں کیا چیز بری لگی تھی الا یہ کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنی مہربانی سے [91] انہیں غنی کر دیا ہے۔ اگر یہ توبہ کر لیں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر یہ اعراض کریں تو اللہ انہیں دنیا میں بھی دردناک عذاب دے گا اور آخرت میں بھی۔ اور ان کے لئے روئے زمین پر کوئی حامی اور مددگار نہ ہو گا
[89] توہین رسالت کلمہ کفر ہے:۔
وہ کفر کا کلمہ کیا تھا جو ان منافقوں نے بکا تھا؟ قرآن نے یہاں اس کی تصریح نہیں کی۔ یہ اس لیے کہ یہ کوئی ایک آدھ واقعہ نہ تھا بلکہ ان لوگوں نے کئی موقعوں پر ایسے کفر کے کلمے کہے تھے جیسا کہ روایات میں مذکور ہے مگر ہم اسی واقعہ پر اکتفا کریں گے جو سورۃ منافقون میں اجمالاً اور بخاری میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے۔ سیدنا زید بن ارقم کہتے ہیں کہ ایک لڑائی میں (غزوہ بنی مصطلق سے واپسی پر جب مہاجرین اور انصار میں جھگڑا ہو گیا تو) میں نے عبد اللہ بن ابی کو یہ کہتے سنا ”لوگو! تم ایسے کرو کہ پیغمبر کے پاس جو لوگ (مہاجرین) جمع ہو گئے ہیں تم ان کو خرچ کے لیے کچھ نہ دو۔ وہ خودبخود اسے چھوڑ کر چلے جائیں گے اور اگر ہم لڑائی سے لوٹ کر مدینہ پہنچے تو عزت والا (یعنی عبد اللہ بن ابی خود) ذلت والے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نکال باہر کرے گا۔ میں نے اس کی یہ باتیں اپنے چچا (سعد بن عبادہ) سے یا سیدنا عمرؓ سے بیان کیں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مجھے بلایا اور دریافت کیا تو میں نے ان باتوں کا اقرار کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلایا تو وہ مکر گئے اور قسمیں کھانے لگے کہ ہم نے ہرگز ایسا نہیں کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا سمجھا اور عبد اللہ بن ابی کو سچا (کیونکہ وہ اور اس کے ساتھی بھی قسمیں کھا رہے تھے) مجھے اس بات کا اتنا رنج ہوا جتنا پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ میں گھر میں بیٹھ رہا۔ میرے چچا کہنے لگے ”ارے! یہ تم نے کیا کیا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جھوٹا سمجھا اور ناراض ہوئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے سورۃ منافقون نازل فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا اور یہ سورۃ منافقون مجھے پڑھ کر سنائی۔ بعد میں فرمایا: زید اللہ نے تمہاری تصدیق فرما دی۔“ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ سورة المنافقون]
[90] منافقوں کی چند سازشیں جن میں وہ ناکام رہے:۔
ایسے واقعات بھی بے شمار ہیں جو کتاب و سنت سے ثابت ہیں مثلاً ایک وہی واقعہ جو اوپر بیان ہوا۔ دوسرے ہر جنگ میں ان کی قریش مکہ سے یا یہودیوں سے سازباز رہتی تھی کہ مسلمانوں کو شکست سے دو چار ہونا پڑے وہ اس مقصد میں بھی ناکام رہے۔ تیسرے انہوں نے اپنی خفیہ سازشوں اور فتنہ انگیزیوں کے لیے مسجد ضرار کی شکل میں ایک پرفریب اڈا تعمیر کیا تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک سے واپسی پر فوراً بحکم الٰہی آگ لگوا کر تباہ کر دیا اور چوتھے اس غزوہ تبوک کی مناسبت سے وہ واقعہ ہے جو اس سفر سے واپسی کے دوران پیش آیا۔
رسول اللہﷺ پر قاتلانہ حملہ کی ناکام سازش:۔
اور جس میں منافقوں نے معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دینے کی سازش تیار کر رکھی تھی اور ان سازشیوں کو بعد میں اہل عقبہ (گھاٹی والے) کا نام دیا گیا۔ ان کا پروگرام یہ تھا کہ رات کے وقت پہاڑی کے دشوار گزار رستوں پر چلتے چلتے گھاٹی کی جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر سے الگ لے جا کر اچانک آپ پر حملہ کر دیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری سے اٹھا کر نیچے گھاٹی میں پھینک کر ہلاک کر دیا جائے اور اس واقعہ کی کسی کو خبر بھی نہ ہو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی پر پہنچے تو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی مطلع فرما دیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ سارے لشکر میں منادی کر دے کہ کوئی شخص گھاٹی کی طرف نہ آئے اور بطن وادی کی طرف سے جائے جو آسان اور کھلا راستہ ہے۔ اس وقت سیدنا حذیفہ بن یمانؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو آگے سے پکڑے چل رہے تھے اور سیدنا عمار بن یاسرؓ پیچھے سے چلا رہے تھے اس اعلان پر سب مسلمانوں نے بطن وادی کی راہ لی مگر یہ منافقین صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے حکم کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے ناپاک ارادہ کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے درپے تھے اچانک چار منافق اپنے چہروں پر ڈھاٹے باندھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ کو حکم دیا کہ ان منافقوں کی سواریوں کے چہروں پر کاری ضربیں لگائیں۔ انہوں نے اپنی ڈھال سے ان کی سواریوں کے چہروں پر زور دار حملے کیے، ساتھ ہی یہ کہتے جاتے تھے ”اللہ کے دشمنو! دفع ہو جاؤ۔“ سیدنا حذیفہ کی اس پکار سے منافقوں کو معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ارادہ کی اطلاع ہو چکی ہے۔ لہٰذا یہ لوگ جلدی جلدی مسلمانوں کے لشکر سے جا ملے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان منافقوں اور ان کے باپوں تک کے نام سیدنا حذیفہؓ کو بتلا دیئے تھے اور یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ان کے نام کسی کو نہ بتلائے جائیں۔ سیدنا حذیفہ ان منافقوں کو پوری طرح پہچانتے تھے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ راز افشا نہیں کرتے تھے اسی لیے آپ کو ”راز دان رسول“ کہا جاتا ہے۔ صحیح مسلم کی درج ذیل حدیث اس واقعہ پر پوری روشنی ڈالتی ہے۔ ایک دفعہ سیدنا حذیفہؓ اور عقبہ والوں میں سے ایک شخص کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ اس شخص نے کہا ”میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ عقبہ والے کتنے تھے؟ لوگوں نے سیدنا حذیفہ کو کہا کہ جب وہ پوچھتا ہے تو آپ بتلا دیجئے۔ سیدنا حذیفہ کہنے لگے ”ہمیں خبر دی گئی ہے کہ وہ چودہ تھے اور اگر تو بھی ان میں شامل تھا تو پندرہ تھے اور میں اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے بارہ تو دنیا اور آخرت میں اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں۔ باقی رہے تین تو انہوں نے عذر کیا تھا کہ ہم نے اللہ کے رسول کی منادی کی آواز نہیں سنی تھی۔ اور نہ ہمیں یہ معلوم ہو سکا کہ ان لوگوں کا ارادہ کیا تھا۔“ [مسلم۔ كتاب صفة المنافقين و احكامهم]
[91] مسلمانوں کے ساتھ ساتھ منافقوں کی بھی آسودگی:۔
جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آئے تو اس وقت مدینہ کی معیشت پر یہودی چھائے ہوئے تھے۔ وہ مالدار اور سود خوار قوم تھی۔ تجارت ان کے ہاتھ میں تھی۔ وہی جنگی آلات بناتے اور بیچتے تھے۔ علاوہ ازیں شراب کا کاروبار بھی کرتے تھے۔ اس معاشی برتری کے ساتھ ساتھ اوس اور خزرج کو آپس میں لڑا کر سیاسی برتری بھی انہوں نے حاصل کر رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو یہ سیاسی برتری یہود کے بجائے مسلمانوں کے حصہ میں آگئی۔ مواخات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے مسلمانوں کی معیشت سنبھلتی گئی۔ پھر اموال غنیمت سے مسلمان آسودہ ہو گئے اور ان سب باتوں میں منافق بھی حصہ دار تھے۔ اللہ تعالیٰ منافقوں سے یہ فرما رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی وجہ سے تو تمہیں آسودگی حاصل ہوئی ہے پھر اگر انہی سے دشمنی کر کے ان سے نمک حرامی کا ثبوت دو گے تو تمہیں دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں سخت عذاب بھگتنا پڑے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

چار تلواریں؟ ٭٭
کافروں منافقوں سے جہاد کا اور ان پر سختی کا حکم ہوا، مومنوں سے جھک کر ملنے کا حکم ہوا، کافروں کی اصلی جگہ جہنم مقرر فرما دی،
پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے چار تلواروں کے ساتھ مبعوث فرمایا ایک تلوار تو مشرکوں میں، فرماتا ہے «‏‏‏‏فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ» ۱؎ [9-التوبة:5]‏‏‏‏ حرمت والے مہینوں کے گذرتے ہی مشرکوں کی خوب خبر لو،
دوسری تلوار اہل کتاب کے کفار میں، فرماتا ہے، «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [9-التوبة:29]‏‏‏‏ الخ جو اللہ تعالیٰ پر قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرام کئے ہوئے کو حرام نہیں مانتے، دین حق کو قبول نہیں کرتے، ان اہل کتاب سے جہاد کرو جب تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جھک کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دینا منظور نہ کر لیں،
تیسری تلوار منافقین میں، ارشاد ہوتا ہے۔ «جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ» ۱؎ [9-التوبة:73]‏‏‏‏ [66-التحريم:9]‏‏‏‏کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔
چوتھی تلوار باغیوں میں، فرمان ہے «فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [49-الحجرات:9]‏‏‏‏ باغیوں سے لڑو جب تک کہ پلٹ کر وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حکم برداری کی طرف نہ آ جائیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ منافق جب اپنا نفاق ظاہر کرنے لگیں تو ان سے تلوار سے جہاد کرنا چاہیئے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ قول بھی یہی ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہاتھ سے نہ ہو سکے تو ان کے منہ پر ڈانٹ ڈپٹ سے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے تو تلوار کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور منافقوں کے ساتھ زبانی جہاد کو فرمایا ہے اور یہ کہ ان پر نرمی نہ کی جائے۔
مجاہد رحمہ اللہ کا بھی تقریباً یہی قول ہے۔ ان پر حد شرعی کا جاری کرنا بھی ان سے جہاد کرنا ہے مقصود یہ ہے کہ کبھی تلوار بھی ان کے خلاف اٹھانی پڑے گی ورنہ جب تک کام چلے زبان کافی ہے جیسا موقعہ ہو کر لے۔
قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسی کوئی بات زبان سے نہیں نکالی، حالانکہ درحقیقت کفر کا بول بول چکے ہیں اور اپنے ظاہری اسلام کے بعد کھلا کفر کر چکے ہیں۔
یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں اتری ہے۔ ایک جہنی اور ایک انصاری میں لڑائی ہو گئی۔ جہنی شخص انصار پر چھا گیا تو اس منافق نے انصار کو اس کی مدد پر ابھارا اور کہنے لگا واللہ! ہماری اور اس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تو وہی مثال ہے کہ اپنے کتے کو موٹا تازہ کر کہ وہ تجھے ہی کاٹے۔‏‏‏‏
واللہ! اگر ہم اب کی مرتبہ مدینے واپس گئے تو ہم ذی عزت لوگ ان تمام کمینے لوگوں کو وہاں سے نکال کر باہر کریں گے۔ ایک مسلمان نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گفتگو دہرادی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوا کر اس سے سوال کیا تو یہ قسم کھا کر انکار کر گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ۱؎ [9-التوبة:29]‏‏‏‏
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری قوم کے جو لوگ حرہ کی جنگ میں کام آئے ان پر مجھے بڑی ہی رنج و صدمہ ہو رہا تھا۔ اس کی خبر سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! انصار کو اور انصار کے لڑکوں کو بخش دے۔ نیچے کے راوی ابن الفضل کو اس میں شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس دعا میں ان کے پوتوں کا نام بھی لیا یا نہیں؟
پس سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے موجود لوگوں میں سے کسی سے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی نسبت سوال کیا تو اس نے کہا یہی وہ زید رضی اللہ عنہ ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی۔
واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک منافق نے کہا اگر یہ سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی زیادہ احمق ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ! نبی کریم صلی اللہ علی وسلم بالکل سچے ہیں اور بیشک تو اپنی حماقت میں گدھے سے بڑھا ہوا ہے۔
پھر آپ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گذار کی، لیکن وہ منافق پلٹ گیا اور صاف انکار کر گیا اور کہا کہ زید نے جھوٹ بولا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی سچائی بیان فرمائی۔ لیکن مشہور بات یہ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بنی المطلق کا ہے ممکن ہے راوی کو اس آیت کے ذکر میں وہم ہو گیا ہو اور دوسری آیت کے بدلے اسے بیان کر دیا ہو۔ یہی حدیث بخاری شریف میں ہے ۱؎ [صحیح بخاری:4906]‏‏‏‏
لیکن اس جملے تک کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ وہ ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی، ممکن ہے کہ بعد کا حصہ موسیٰ بن عقبہ راوی کا اپنا قول ہو، اسی کی ایک روایت میں یہ پچھلا حصہ ابن شہاب کے قول سے مروی ہے واللہ اعلم۔
مغازی اموی میں سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بیان کردہ تبوک کے واقعہ کے بعد ہے کہ جو منافق مؤخر چھوڑ دیئے گئے تھے اور جن کے بارے میں قرآن نازل ہوا ان میں سے بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی تھے۔ ان میں جلاس بن سوید بن صامت بھی تھا ان کے گھر میں عمیر بن سعد کی والدہ تھیں جو اپنے ساتھ سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کو بھی لے گئی تھیں۔ جب ان منافقوں کے بارے میں قرآنی آیتیں نازل ہوئیں تو جلاس کہنے لگا کہ واللہ! اگر یہ شخص اپنے قول میں سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی بدتر ہیں
سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ یہ سن کر فرمانے لگے کہ یوں تو آپ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ کی تکلیف مجھ پر میری تکلیف سے بھی زیادہ شاق ہے لیکن آپ نے اسوقت تو ایسی بات منہ سے نکالی ہے کہ اگر میں اسے پہنچاؤں تو رسوائی ہے اور نہ پہنچاؤں تو ہلاکت ہے، رسوائی یقیناً ہلاکت سے ہلکی چیز ہے۔
یہ کہہ کر یہ بزرگ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ سنائی۔ جلاس کو جب یہ پتہ چلا تو اس نے سرکار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر قسمیں کھا کھا کر کہا کہ عمیر جھوٹا ہے میں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ اس کے بعد جلاس نے توبہ کر لی اور درست ہو گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17464]‏‏‏‏
یہ توبہ کی بات بہت ممکن ہے کہ امام محمد بن اسحاق کی اپنی کہی ہوئی ہو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں، واللہ اعلم، اور روایت میں ہے کہ جلاس بن سوید بن صامت اپنے سوتیلے بیٹے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ قباء سے آ رہے تھے دونوں گدھوں پر سوار تھے اس وقت جلاس نے یہ کہا تھا اس پر ان کے صاحبزادے نے فرمایا کہ اے دشمن رب! میں تیری اس بات کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دوں گا فرماتے ہیں کہ مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن نہ نازل ہو یا مجھ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آ جائے یا اس گناہ میں میں بھی اپنے باپ کا شریک نہ کر دیا جاؤں، چنانچہ میں سیدھا حاضر ہوا اور تمام بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مع اپنے ڈر کے سنا دی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16982]‏‏‏‏
ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علی وسلم ایک سائے دار درخت تلے بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کہ ابھی تمہارے پاس ایک شخص آئے گا اور تمہیں شیطان دیکھے گا خبردار! تم اس سے کلام نہ کرنا،
اسی وقت ایک انسان کیری آنکھوں والا آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اور تیرے ساتھی مجھے گالیاں کیوں دیتے ہو؟ وہ اسی وقت گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر آیا سب نے قسمیں کھا کھا کر کہا ہم نے کوئی ایسا لفظ نہیں کہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درگذر فرما لیا پھر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16988]‏‏‏‏
اس میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے وہ قصد کیا جو پورا نہ ہوا مراد اس سے جلاس کا یہ ارادہ ہے کہ اپنے سوتیلے لڑکے کو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بات کہ دی تھی قتل کر دے۔
ایک قول ہے کہ عبداللہ بن ابی نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ یہ قول بھی ہے کہ بعض لوگوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اسے سردار بنا دیں گو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی نہ ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ دس سے اوپر اوپر آدمیوں نے غزوہ تبوک میں راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکہ دے کر قتل کرنا چاہا تھا،
چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے آگے پیچھے تھے ایک چلتا تھا دوسرا نکیل تھامتا تھا۔ ہم عقبہ میں تھے کہ بارہ شخص منہ پر نقاب ڈالے آئے اور اونٹنی کو گھیر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں للکارا اور وہ دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: کیا تم نے انہیں پہچانا؟ ہم نے کہا: نہیں لیکن ان کی سواریاں ہماری نگاہوں میں ہیں۔‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ منافق تھے اور قیامت تک ان کے دل میں نفاق رہے گا۔ جانتے ہو کہ کس ارادے سے آئے تھے؟ ہم نے کہا: نہیں۔‏‏‏‏ فرمایا: اللہ تعالیٰ کے رسول کو عقبہ میں پریشان کرنے اور تکلیف پہنچانے کے لیے۔‏‏‏‏ ہم نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی قوم کے لوگوں سے کہلوا دیجئیے کہ ہر قوم والے اپنی قوم کے جس آدمی کی شرکت اس میں پائیں اس کی گردن اڑا دیں۔‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ورنہ لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو انہی لوگوں کو لے کر اپنے دشمنوں سے لڑے ان پر فتح حاصل کر کے اپنے ان ساتھیوں کو بھی قتل کر ڈالا۔‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بد دعا کی کہ اے اللہ! ان کے دلوں پر آتشیں پھوڑے پیدا کر دے۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:260/5:ضعیف]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کرا دیا کہ میں عقبہ کے راستے میں جاؤں گا۔ اس کی راہ کوئی نہ آئے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ پیچھے سے چلا رہے تھے کہ ایک جماعت اپنی اونٹنیوں پر سوار آ گئی۔
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی سواریوں کو مارنا شروع کیا اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو نیچے کی طرف چلانی شروع کر دی۔ جب نیچے میدان آ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر آئے اتنے میں عمار رضی اللہ عنہ بھی واپس پہنچ گئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ لوگ کون تھے پہچانا بھی؟ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: منہ تو چھپے ہوئے تھے لیکن سواریاں معلوم ہیں۔‏‏‏‏ پوچھا: انکا ارادہ کیا تھا جانتے ہو؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے چاہا تھا کہ شور کر کے ہماری اونٹنی کو بھڑکا دیں اور ہمیں گرا دیں۔‏‏‏‏
ایک سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی تعداد دریافت کی تو اس نے کہا چودہ۔ آپ نے فرمایا: اگر تو بھی ان میں تھا تو پندرہ۔‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے تین شخصوں کے نام گنوائے۔ انہوں نے کہا واللہ! ہم نے تو منادی کی ندا سنی اور نہ ہمیں اپنے ساتھیوں کے کسی بد ارادے کا علم تھا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ باقی کے بارہ لوگ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے والے ہیں دنیا میں اور آخرت میں بھی۔ ۱؎ [مسند احمد:390،391/5:صحیح]‏‏‏‏
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے ان میں سے بہت سے لوگوں کے نام بھی گنوائے ہیں، واللہ اعلم۔
صحیح مسلم میں ہے کہ عقبہ والوں میں سے ایک شخص اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان (اس طرح کا) جھگڑا ہو گیا جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتا ہے۔ (گفتگو کے دوران میں) انہوں نے (اس شخص سے) کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ عقبہ والوں کی تعداد کتنی تھی؟ لوگوں نے بھی اس سے کہا کہ ہاں بتلاؤ۔ اس نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ چودہ تھے اگر مجھے بھی شامل کیا جائے تو پندرہ ہوئے۔ ان میں سے بارہ تو دشمن الہٰی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور تین شخصوں کی اس قسم پر کہ نہ ہم نے منادی کی، نہ ندا سنی، نہ ہمیں جانے والوں کے ارادے کا علم تھا اس لیے معذور رکھا گیا۔ گرمی کا موسم تھا پانی بہت کم تھا آپ نے فرما دیا تھا کہ مجھ سے پہلے وہاں کوئی نہ پہنچے لیکن اس پر بھی کچھ لوگ پہنچ گئے تھے آپ نے ان پر لعنت کی۔ ۱؎ [صحیح مسلم، ترقیم فواد عبدالباقی: 2779]‏‏‏‏
آپ کا فرمان ہے کہ میرے ساتھیوں میں بارہ منافق ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے نہ اس کی خوشبو پائیں گے آٹھ کے مونڈھوں پر تو آتشی پھوڑا ہو گا جو سینے تک پہنچے گا اور انہیں ہلاک کر دے گا۔ ۱؎ [مسند احمد:319،262/4:صحیح]‏‏‏‏
اسی باعث سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم کا راز دار کہا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف انہی کو ان منافقوں کے نام بتلائے تھے۔ واللہ اعلم۔
طبرانی میں ان کے نام یہ ہیں معتب بن قشیر، ودیعہ بن ثابت، جد بن عبداللہ بن نبتل بن حارث جو عمرو بن عوف کے قبیلے کا تھا اور حارث بن یزید طائی اور اوس بن قیظی اور حارث بن سوید اور سعد بن زرارہ اور قیس بن فہر اور سوید اور داعس قبیلہ بنو حبلیٰ کے اور قیس بن عمرو بن سہل اور زید بن لصیت اور سلالہ بن حمام یہ دونوں قبیلہ بنو قینقاع کے ہیں یہ سب بظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے۔
اس آیت میں اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اسی بات کا بدلہ لیا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مالدار بنایا،
اگر ان پر اللہ تعالیٰ کا پورا فضل ہو جاتا تو انہیں ہدایت نصیب ہو جاتی جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ کہ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہاری رہبری کی، تم متفرق تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تم میں الفت ڈال دی تم فقیر بے نوا تھے اللہ تعالیٰ نے میرے سبب سے تمہیں غنی اور مالدار کر دیا۔‏‏‏‏
ہر ہر سوال کے جواب میں انصار رضی اللہ عنہم فرماتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے زیادہ احسان ہے ۱؎ [صحیح بخاری:4330]‏‏‏‏۔
الغرض بیان یہ ہے کہ بے وجہ، بے قصور یہ لوگ دشمنی اور بےایمانی پر اتر آئے، جیسے سورۃ البروج میں ہے کہ ان مسلمانوں میں سے ایک کافروں کا انتقام صرف ان کے ایمان کے باعث تھا۔ حدیث میں ہے کہ ابن جمیل صرف اس بات کا انتقام لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ تعالیٰ نے اسے غنی کر دیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1768]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ اب بھی توبہ کر لیں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر وہ اپنے اسی طریقہ پر کاربند رہے تو انہیں دنیا میں بھی سخت سزا ہو گی قتل سے بھی صدمہ و غم سے بھی اور دوزخ کے ذلیل و پست کرنے والے ناقابلِ برداشت عذابوں سے بھی، دنیا میں کوئی نہ ہو گا جو ان کی طرف داری کرے ان کی مدد کرے ان کے کام آئے ان سے برائی ہٹائے یا نفع پہنچائے یہ بے یارو مددگار رہ جائیں گے۔