ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳۳﴾
ترجمہ عبدالسلام بن محمد بھٹوی
وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، خواہ مشرک لوگ برا جانیں۔
ترجمہ فتح محمد جالندھری
وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں
ترجمہ محمد جوناگڑھی
اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے اور تمام مذہبوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرک برا مانیں
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت33) {هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ …:} اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا دین اس لیے نہیں آیا کہ وہ کسی دوسرے دین، بت پرستی، دہریت، یہودیت، عیسائیت، جمہوریت یا سوشلزم سے مغلوب ہو کر اس سے مصالحت کرکے دنیا میں زندہ رہے، بلکہ دین اسلام کا اول و آخر مقصد یہ ہے کہ وہ دوسرے تمام ادیان اور نظام ہائے زندگی کو مغلوب کرکے ساری دنیا پر غالب دین اور نظام زندگی کی حیثیت سے زندہ رہے۔ یہاں {” لِيُظْهِرَهٗ “} میں ظہور (غلبہ) سے مراد دلائل و براہین کے ساتھ غلبہ بھی ہے اور حکمرانی کے لحاظ سے بھی۔ پہلی قسم کا غلبہ تو ہمیشہ اور دائمی ہے اور آج تک کوئی شخص قرآن کے چیلنج تین آیتوں کی سورت کا جواب لانے کی جرأت نہیں کر سکا۔ دوسری قسم کا غلبہ ایک مرتبہ ہم دورِ نبوت و خلافت میں دیکھ چکے ہیں اور دوبارہ مزید غلبے کی بشارتیں ضرور پوری ہو کر رہیں گی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے صحیح مومن ہونے کی شرط لگائی ہے، فرمایا: «وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» [آل عمران: ۱۳۹] ”اور تم ہی غالب ہو اگر تم مومن ہو۔“ الحمد للہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان مختلف مقامات پر جہاد کے ساتھ اس کے آثار شروع ہو چکے ہیں۔ ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین لپیٹ دی یہاں تک کہ میں نے اس کے مشرق اور مغرب دیکھے اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جو میرے لیے اس میں سے لپیٹا گیا ہے۔“ [مسلم، الفتن، باب ھلاک ھٰذہ الأمۃ بعضھم ببعض: ۲۸۸۹] مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین کی پشت پر نہ کوئی اینٹ کا مکان اور نہ پشم کا (خیمہ) باقی رہے گا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا، عزت والے کو عزت بخش کر اور ذلیل کو ذلت دے کر، یا تو انھیں عزت بخشے گا تو وہ اس میں داخل ہو جائیں گے، یا انھیں ذلیل کرے گا تو اس کے تحت ہو جائیں گے۔ [مستدرک حاکم: 430/4، ح: ۸۳۲۴ و صححہ ھو والذھبی] یہ پیش گوئی ابھی پوری نہیں ہوئی، پوری ہو کر رہے گی۔ (ان شاء اللہ) جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، اس پر مسلمانوں کی ایک قوی جماعت لڑتی رہے گی، حتیٰ کہ قیامت قائم ہو۔“ [مسلم، الإمارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : لا تزال طائفۃ من أمتی…: ۱۹۲۲]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
33۔ 1 دلائل وبراہین کے لحاظ سے تو یہ غلبہ ہر وقت حاصل ہے۔ تاہم مسلمانوں نے دین پر عمل کیا تو انہیں دنیاوی غلبہ بھی حاصل ہوا۔ اور اب بھی مسلمان اگر اپنے دین کے عامل بن جائیں تو ان کا غلبہ یقینی ہے، اس لئے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ حزب اللہ غالب و فاتح ہوگا۔ شرط یہی ہے کہ مسلمان حزب اللہ بن جائیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو سب ادیان [33] پر غالب کر دے۔ خواہ یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار ہو
[33] آپ کی بعثت کا مقصد اسلام کی نظریاتی اور سیاسی بالا دستی:۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ نے رسول اس لیے بھیجا ہے کہ ساری دنیا کو مسلمان بنا کے چھوڑے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ دنیا میں جو جو دین یا نظام ہائے زندگی رائج ہیں ان سب پر بلحاظ عقل اور دلیل و حجت اسلام کی بالا دستی قائم ہو جائے۔ مثلاً دور نبوی میں یہودیت ایک دین تھا۔ عیسائیت، مجوسیت، منافقت، صائبیت، مشرکین کا دین۔ ان سب ادیان کے عقائد الگ الگ تھے۔ اور انہی عقائد کی مناسبت سے ان کا پورے کا پورا نظام زندگی ترتیب پاتا تھا۔ رسول کی بعثت کا مقصد اللہ کے نزدیک یہ ہے کہ ان تمام باطل ادیان کے نظام ہائے زندگی پر اسلام کی برتری اور بالا دستی قائم کر دے۔ اور عقل اور دلیل و حجت کے لحاظ سے اسلام کی یہ برتری اور بالا دستی آج تک قائم ہے۔ بیرون عرب ادیان باطل کی مثالیں۔ ہندو ازم، سکھ ازم، بدھ ازم، جمہوریت اور اشتراکیت وغیرہ ہیں۔ ایسے سب ادیان پر اسلام کی برتری اور بالا دستی کو بہ دلائل ثابت کرنا علمائے اسلام کا فریضہ ہے۔ یہ تو نظریاتی برتری ہوئی۔ اور سیاسی برتری کے لحاظ سے بھی اللہ نے اسے کئی صدیوں تک غالب رکھا۔ بعد میں جب مسلمانوں میں اخلاقی انحطاط اور انتشار رو نما ہوا تو مسلمانوں سے یہ نعمت چھین لی گئی۔ اور اس کا اصول یہ ہے کہ جب تک اور جہاں تک مسلمان اپنے نظام زندگی اسلامی نظریات کے مطابق ڈھالیں گے اسی حد تک مسلمانوں کو غیر مسلم اقوام پر سیاسی بالا دستی اور برتری حاصل ہو گی جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں بالقوۃ یہ استعداد موجود ہے کہ وہ سیاسی طور پر بھی تمام غیر مسلم اقوام اور نظریات پر غلبہ حاصل کرے۔ اگرچہ مسلمانوں کی عملی کوتاہیوں کی وجہ سے یہ استعداد بالفعل منظر عام پر نہ آسکتی ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کفارہ کی دلی مذموم خواہش ٭٭
فرماتا ہے کہ ہر قسم کے کفار کا ارادہ اور چاہت یہی ہے کہ اللہ کا نور بجھا دیں ہدایتِ ربانی اور دینِ حق کو مٹا دیں تو خیال کر لو کہ اگر کوئی شخص اپنے منہ کی پھونک سے آفتاب یا مہتاب کی روشنی بجھانی چاہے تو کیا یہ ہو سکتا ہے؟ اسی طرح یہ لوگ بھی اللہ کے نور کے بجھانے کی چاہت میں اپنی امکانی کوشش کرلیں آخر عاجز ہو کر رہ جائیں گے۔
ضروری بات ہے اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ دین حق تعلیمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بول بالا ہو گا۔ تم مٹانا چاہتے ہو اللہ تعالیٰ بلند کرنا چاہتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی چاہت تمہاری چاہت پر غالب رہے گی تم گو ناخوش رہو لیکن آفتابِ ہدایت بیچ آسمان میں پہنچ کر ہی رہے گا۔
عربی لغت میں کافر کہتے ہیں کسی چیز کے چھپا لینے والے کو اسی اعتبار سے رات کو بھی کافر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ بھی تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے، کسان کو کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ دانے زمین میں چھپا دیتا ہے۔
جیسے فرمان ہے «اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ» ۱؎ [57-الحديد:20] اسی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی خبریں اور صحیح ایمان اور نفع والا علم یہ ہدایت ہے اور عمدہ اعمال جو دنیا آخرت میں نفع دیں یہ دین حق ہے۔ یہ تمام مذاہب عالم پر چھا کر رہے گا۔
نبی کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میرے لیے مشرق و مغرب کی زمین لپیٹ دی گئی میری امت کا ملک ان تمام جگہوں تک پہنچے گا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:2889] فرماتے ہیں تمہارے ہاتھوں پر مشرق و مغرب فتح ہو گا۔ تمہارے سردار جہنمی ہیں، بجز ان کے جو متقی، پرہیزگار اور امانت دار ہوں۔ ۱؎ [مسند احمد:366،367/5:صحیح]
ضروری بات ہے اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ دین حق تعلیمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بول بالا ہو گا۔ تم مٹانا چاہتے ہو اللہ تعالیٰ بلند کرنا چاہتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی چاہت تمہاری چاہت پر غالب رہے گی تم گو ناخوش رہو لیکن آفتابِ ہدایت بیچ آسمان میں پہنچ کر ہی رہے گا۔
عربی لغت میں کافر کہتے ہیں کسی چیز کے چھپا لینے والے کو اسی اعتبار سے رات کو بھی کافر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ بھی تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے، کسان کو کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ دانے زمین میں چھپا دیتا ہے۔
جیسے فرمان ہے «اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ» ۱؎ [57-الحديد:20] اسی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی خبریں اور صحیح ایمان اور نفع والا علم یہ ہدایت ہے اور عمدہ اعمال جو دنیا آخرت میں نفع دیں یہ دین حق ہے۔ یہ تمام مذاہب عالم پر چھا کر رہے گا۔
نبی کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میرے لیے مشرق و مغرب کی زمین لپیٹ دی گئی میری امت کا ملک ان تمام جگہوں تک پہنچے گا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:2889] فرماتے ہیں تمہارے ہاتھوں پر مشرق و مغرب فتح ہو گا۔ تمہارے سردار جہنمی ہیں، بجز ان کے جو متقی، پرہیزگار اور امانت دار ہوں۔ ۱؎ [مسند احمد:366،367/5:صحیح]
فرماتے ہیں یہ دین تمام اس جگہ پر پہنچے گا جہاں پر دن رات پہنچیں کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جہاں اللہ عزوجل اسلام کو نہ پہنچائے۔ عزیزوں کو عزیز کرے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا۔ اسلام کو عزت دینے والوں کو عزت ملے گی اور کفر کو ذلت نصیب ہو گی۔
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو یہ بات خود اپنے گھر میں بھی دیکھ لی جو مسلمان ہوا اسے خیر و برکت، عزت و شرافت ملی اور جو کافر رہا اسے ذلت و نکبت، نفرت و لعنت نصیب ہوئی، پستی اور حقارت دیکھی اور کمینہ پن کے ساتھ جزیہ دینا پڑا۔ ۱؎ [مسند احمد:103/4:صحیح]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کلمہ اسلام کو داخل نہ کر دے وہ عزت والوں کو عزت دے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا جنہیں عزت دینی چاہے گا انہیں اسلام نصیب کرے گا اور جنہیں ذلیل کرنا ہو گا وہ اسے مانیں گے نہیں لیکن اس کی ماتحتی میں انہیں آنا پڑے گا۔“ ۱؎ [مسند احمد:4/6:صحیح]
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے مجھ سے فرمایا: ”اسلام قبول کر تاکہ سلامتی ملے۔“ میں نے کہا: ”میں تو ایک دین کو مانتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دین کا تجھ سے زیادہ مجھے علم ہے۔“ میں نے کہا: ”سچ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل سچ۔ کیا تو رکوسیہ میں سے نہیں ہے؟ کیا تو اپنی قوم سے ٹیکس وصول نہیں کرتا“؟ میں نے کہا: ”یہ تو سچ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دین میں یہ تیرے لیے حلال نہیں۔“ پس یہ سنتے ہی میں تو جھک گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خوب جانتا ہوں کہ تجھے اسلام سے کون سی چیز روکتی ہے۔ سن! صرف ایک یہی بات تجھے روک رہی ہے کہ مسلمان بالکل ضعیف اور کمزور اور ناتواں ہیں تمام عرب انہیں گھیرے ہوئے ہے یہ ان سے نپٹ نہیں سکتے لیکن سن! حیرہ کا تجھے علم ہے“؟
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو یہ بات خود اپنے گھر میں بھی دیکھ لی جو مسلمان ہوا اسے خیر و برکت، عزت و شرافت ملی اور جو کافر رہا اسے ذلت و نکبت، نفرت و لعنت نصیب ہوئی، پستی اور حقارت دیکھی اور کمینہ پن کے ساتھ جزیہ دینا پڑا۔ ۱؎ [مسند احمد:103/4:صحیح]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کلمہ اسلام کو داخل نہ کر دے وہ عزت والوں کو عزت دے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا جنہیں عزت دینی چاہے گا انہیں اسلام نصیب کرے گا اور جنہیں ذلیل کرنا ہو گا وہ اسے مانیں گے نہیں لیکن اس کی ماتحتی میں انہیں آنا پڑے گا۔“ ۱؎ [مسند احمد:4/6:صحیح]
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے مجھ سے فرمایا: ”اسلام قبول کر تاکہ سلامتی ملے۔“ میں نے کہا: ”میں تو ایک دین کو مانتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دین کا تجھ سے زیادہ مجھے علم ہے۔“ میں نے کہا: ”سچ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل سچ۔ کیا تو رکوسیہ میں سے نہیں ہے؟ کیا تو اپنی قوم سے ٹیکس وصول نہیں کرتا“؟ میں نے کہا: ”یہ تو سچ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دین میں یہ تیرے لیے حلال نہیں۔“ پس یہ سنتے ہی میں تو جھک گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خوب جانتا ہوں کہ تجھے اسلام سے کون سی چیز روکتی ہے۔ سن! صرف ایک یہی بات تجھے روک رہی ہے کہ مسلمان بالکل ضعیف اور کمزور اور ناتواں ہیں تمام عرب انہیں گھیرے ہوئے ہے یہ ان سے نپٹ نہیں سکتے لیکن سن! حیرہ کا تجھے علم ہے“؟
میں نے کہا: ”دیکھا تو نہیں سنا ضرور ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امر دین کو پورا فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سانڈنی سوار حیرہ سے چل کر بغير كسي كي امان كےُمکہ معظمہ پہنچے گا اور بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ واللہ! تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے۔“ میں نے کہا: ”کسریٰ بن ہرمز کے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں کسریٰ بن ہرمز کے، تم میں مال کی اس قدر کثرت ہو پڑے گی کہ کوئی لینے والا نہ ملے گا۔“
اس حدیث کو بیان کرتے وقت عدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پورا ہوا یہ دیکھو آج حیرہ سے سواریاں چلتی ہیں بےخوف و خطر بغیر کسی کی پناہ کے بیت اللہ پہنچ کر طواف کرتی ہیں۔ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری پیشن گوئی بھی پوری ہوئی۔ کسریٰ کے خزانے فتح ہوئے میں خود اس فوج میں تھا جس نے ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور کسریٰ کے مخفی خزانے اپنے قبضے میں کئے۔ واللہ! مجھے یقین ہے کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری پیشین گوئی بھی قطعاً پوری ہو کر ہی رہے گی۔“ ۱؎ [مسند احمد:378/4:حسن]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”دن رات کا دور ختم نہ ہو گا۔ جب تک کہ پھر لات و عزیٰ کی عبادت نہ ہونے لگے۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ» کے نازل ہونے کے بعد سے میرا خیال تو آج تک یہی رہا کہ یہ پوری بات ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں پوری ہو گئی اور مکمل ہی رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین ایک پاک ہوا بھیجیں گے جو ہر اس شخص کو بھی فوت کرلے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ پھر وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر و خوبی نہ ہو گی۔ پس وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف پھر سے لوٹ جائیں گئے۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:2907]
اس حدیث کو بیان کرتے وقت عدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پورا ہوا یہ دیکھو آج حیرہ سے سواریاں چلتی ہیں بےخوف و خطر بغیر کسی کی پناہ کے بیت اللہ پہنچ کر طواف کرتی ہیں۔ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری پیشن گوئی بھی پوری ہوئی۔ کسریٰ کے خزانے فتح ہوئے میں خود اس فوج میں تھا جس نے ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور کسریٰ کے مخفی خزانے اپنے قبضے میں کئے۔ واللہ! مجھے یقین ہے کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری پیشین گوئی بھی قطعاً پوری ہو کر ہی رہے گی۔“ ۱؎ [مسند احمد:378/4:حسن]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”دن رات کا دور ختم نہ ہو گا۔ جب تک کہ پھر لات و عزیٰ کی عبادت نہ ہونے لگے۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ» کے نازل ہونے کے بعد سے میرا خیال تو آج تک یہی رہا کہ یہ پوری بات ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں پوری ہو گئی اور مکمل ہی رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین ایک پاک ہوا بھیجیں گے جو ہر اس شخص کو بھی فوت کرلے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ پھر وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر و خوبی نہ ہو گی۔ پس وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف پھر سے لوٹ جائیں گئے۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:2907]