ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 128

لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾
بلاشبہ یقینا تمھارے پاس تمھی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ En
(لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہیں
En
تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 128) {لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ …:} اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض صفات عالیہ کا اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر ہے۔ ایک صفت { لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ } میں لفظ {رَسُوْلٌ} ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول ہیں، یعنی خود نہیں آئے بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ ایک احسان { جَآءَكُمْ } ہے، یعنی تمام لوگوں کی طرف قیامت تک کے لیے آنے والا رسول تم عربوں میں آیا ہے، عربی رسول بھیج کر اللہ تعالیٰ نے دنیا کی امامت کے لیے تمھیں منتخب فرمایا ہے۔ { كُمْ } کے مخاطب تمام دنیا کے لوگ ہیں، مگر اول مخاطب عرب ہیں، آپ کی تیسری صفت اور اللہ کا احسان { مِنْ اَنْفُسِكُمْ } ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمھاری جنس سے، یعنی انسانوں میں سے ہیں، انھیں تمام انسانی ضروریات لاحق ہیں، وہ آدم کی اولاد سے ہیں، ان کے ماں باپ بھی ہیں، قریش کے ہر خاندان سے کوئی نہ کوئی رشتہ داری ہے، بیویاں اور اولاد بھی ہیں، بچپن، جوانی، بڑھاپا، بھوک، پیاس اور وفات سب کچھ آپ پر گزرا، صحت و مرض، رنج و راحت ہر مرحلے سے گزرے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر چیز میں تمھارے لیے نمونہ ہیں۔ اگر وہ جن یا فرشتہ یا کوئی اور جنس ہوتے تو تمھارے لیے نمونہ اور اسوۂ حسنہ کیسے بنتے؟ اللہ کا احسان مانو کہ اس نے خود تم میں سے ایک نمونہ اپنا پیغام دے کر بھیجا کہ اس کی بات بھی سنو اور اس کی ذات کو دیکھ کر اس کے مطابق عمل بھی کرو۔ مزید دیکھے سورۂ آل عمران(۱۶۴) چوتھی یہ کہ { عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ } تمھارا کسی طرح بھی مشقت یا مصیبت میں پڑنا اس پر نہایت شاق ہے، وہ برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ تم کفر اختیار کرکے دنیا میں حیوانوں سے بدتر زندگی گزارو، پھر آخرت میں جہنم کا ایندھن بنو، اس فکر میں وہ گھلتا جا رہا ہے، اتنا کہ اللہ تعالیٰ کو اسے تسلی دلانا پڑتی ہے۔ دیکھیے سورۂ کہف (۶)، آل عمران (۱۷۶)، شعراء (۳) اور شوریٰ (۴۸) پھر وہ ایسا دین لے کر آیا ہے جس میں کوئی مشکل نہیں، نہایت آسان اور سادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اِنِّيْ اُرْسِلْتُ بِحَنِيْفِيَّةٍ سَمْحَةٍ] [أحمد: 116/6، ح: ۲۴۹۰۸، عن عائشۃرضی اللہ عنھا، قال شعیب الأرنؤوط وغیرہ حدیث قوی، إسنادہ حسن] مجھے حنیفی (ابراہیم حنیف والی) آسان شریعت دے کر بھیجا گیا ہے۔ اور فرمایا: [اِنَّ الدِّيْنَ يُسْرٌ] یہ دین سراسر آسان ہے۔ [بخاری، الإیمان، باب الدین یسر: ۳۹، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ایسا مہربان نبی کہ طائف میں دس دن رہ کر مار کھا کر زخمی اور بے ہوش ہو کر نکلا اور ہوش آنے پر اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا کہ اگر کہو تو میں (دو پہاڑوں) اخشبین میں ان کفار کو پیس دوں؟ تو فرمایا: مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی پشتوں سے ایسے لوگ نکالے گا جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔ [بخاری، بدء الخلق، باب إذا قال إحدکم آمین…: ۳۲۳۱، عن عائشۃ رضی اللہ عنھا]
پانچویں یہ کہ { حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ } رات دن اس کی یہی کوشش ہے اور اسی فکر میں لگا رہتا ہے کہ جس طرح بھی ہو سکے تم دوزخ سے بچ جاؤ اور دنیا و آخرت کی فلاح حاصل کر لو۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے { حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ } کا ترجمہ کیا ہے تلاش رکھتا ہے تمھاری۔ اس کی وضاحت میں فرمایا: چاہتا ہے کہ میری امت زیادہ ہوتی رہے۔ (موضح) اس لیے زیادہ اولاد دینے والے خاندانوں میں نکاح کرنے کی ترغیب دی، فرمایا: [تَزَوَّجُوا الْوَلُوْدَ الْوَدُوْدَ فَاِنِّيْ مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ] ایسی عورتوں سے نکاح کرو جو بہت بچے دینے والی، بہت محبت کر نے والی ہوں، کیونکہ میں دوسری امتوں کے سامنے تمھاری کثرت پر فخر کرنے والا ہوں۔ [نسائی، النکاح، باب کراھیۃ تزویج العقیم: ۳۲۲۹۔ أبو داوٗد: ۲۰۵۰] چھٹی { بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ } نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کی عیادت کے لیے جاتے، ان کے جنازے میں پہنچتے، نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر ماں کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے نماز مختصر کر دیتے، خود بھوکے رہ کر انھیں کھلاتے پلاتے، نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انسانوں کے ساتھ شفقت و ہمدردی کو دیکھیں جس کی شہادت ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا نے دی، تو مومنوں پر آپ کی نرمی اور رحمت کا خود بخود اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے، اللہ تعالیٰ نے جو ایک مقبول دعا ہر نبی کی طرح آپ کو عطا کی، سب نے کر لی، مگر آپ نے اپنی امت کی شفاعت کرنے کے لیے سنبھال کر رکھ لی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل سے جنت میں اپنے اس مہربان نبی کی رفاقت عطا فرمائے۔ (آمین)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

128۔ 1 سورت کے آخر میں مسلمانوں پر نبی کی صورت میں جو احسان عظیم فرمایا گیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ کی پہلی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ تمہاری جنس سے یعنی جنس بشریت سے ہیں (وہ نور یا اور کچھ نہیں) جیسا کہ فساد عقیدہ کے شکار لوگ عوام کو اس قسم کے گورکھ دھندے میں پھنساتے ہیں۔ 128۔ 2 عَنْت ایسی چیزیں جن سے انسان کو تکلیف ہو، اس میں دنیاوی مشقتیں اور آخروی عذاب دونوں آجاتے ہیں، اس پیغمبر پر، تمہاری ہر قسم کی تکلیف و مشقت گراں گزرتی ہے۔ اسی لئے آپ نے فرمایا اِنَّ ھٰذَا الدِّینَ یُسر بیشک یہ دین آسان ہے اور میں آسان دین حنیفی دے کر بھیجا گیا ہوں۔ 128۔ 3 تمہاری ہدایت اور تمہاری دینوی آخروی کے فائدے کے خواہشمند ہیں اور تمہارا جہنم میں جانا پسند نہیں فرماتے۔ اسی لئے آپ نے فرمایا کہ ' میں تمہیں تمہاری پشتوں سے پکڑ پکڑ کر کھنچتا ہوں لیکن تم مجھ سے دامن چھڑا کر زبردستی نار جہنم میں داخل ہوتے ہو (صحیح بخاری) 128۔ 4 یہ آپ کی چوتھی صفت بیان کی گئی ہے۔ یہ ساری خوبیاں آپ کے اعلٰی اخلاق اور کریمانہ صفات کی مظہر ہیں۔ یقینا آپ صاحب خلق عظیم ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

128۔ (لوگو)! تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول [148] آیا ہے۔ اگر تمہیں کوئی تکلیف [149] پہنچے تو اسے گراں گزرتی ہے۔ وہ (تمہاری فلاح کا) حریص [150] ہے، مومنوں پر نہایت مہربان [151] اور رحم کرنے والا ہے
[148] یعنی وہ رسول تمہارے ہی قبیلہ سے ہے تم اس کی زندگی بھر کے حالات اور عادات و خصائل سے خوب واقف ہو اور اس کی دیانت، امانت اور صداقت کے شاہد ہو۔ اور وہ تمہاری ہی زبان میں گفتگو کرتا ہے جو تمہارے لیے باعث فخر اور رحمت ہے۔
[149] آپ کو مومنوں کی تکلیف کا شدید احساس تھا:۔
یعنی جب تمہیں کوئی سختی یا دکھ پہنچے تو اس کی جان پر بن جاتی ہے اور اسے اس کے دفعیہ کی فکر دامن گیر ہو جاتی ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ ہر ممکن طریقہ سے یہ چاہتے ہیں کہ امت پر آسانی ہو۔ آپ جو دین لائے وہ بھی سہل اور نرم ہے اور آپ اپنے عمال کو بھیجتے وقت بھی ہدایت فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، سختی نہ کرنا۔
[150] سب سے زیادہ حرص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تھی کہ لوگ اخروی عذاب یعنی دوزخ سے بچ جائیں اور اس کا واحد راستہ یہی تھا کہ وہ آپ پر ایمان لا کر اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جائیں۔ یعنی رسول کے دل میں تمہاری خیر خواہی اور بھلائی کے لیے خاص تڑپ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت بے قرار ہو جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کیفیت کو قرآن میں متعدد بار دہرایا گیا ہے۔
[151] اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین تھے تاہم مومنوں کے تو بہت زیادہ ہمدرد اور ان پر مہربان تھے۔ مومنین کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صفات کو یکجا ذکر کیا گیا۔ ایک رؤف دوسرے رحیم۔ رحم یا مہربانی کا تعلق تو ہر طرح کے حالات میں یکساں ہے اور رؤف وہ شخص ہے جس کا دل کسی پر مصیبت یا سختی دیکھ کر فوراً پسیج جائے اور اسے ترس آنے لگے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کا احسان عظیم ہیں ٭٭
مسلمانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا احسان عظیم یاد دلا رہا ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے خود انہی میں سے ان کی ہی زبان میں اپنا رسول بھیجا۔ سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام نے یہی دعا کی تھی۔ ۱؎ [2-البقرة:129]‏‏‏‏
اسی کا بیان آیت «لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ» ۱؎ [3-آل عمران:164]‏‏‏‏ الخ میں ہے۔ یہی سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے دربار نجاشی میں اور یہی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے دربار کسریٰ میں بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ہم میں سے ایک رسول بھیجا۔ جس کا نسب ہمیں معلوم، جس کی عادت سے ہم واقف، جس کے آنے جانے کی ہمیں خبر، جس کی صداقت و امانت کے ہم خود شاہد ہیں۔ جاہلیت کی برائیوں میں سے کوئی برائی اللہ نے آپ کی ذات میں پیدا نہیں ہونے دی۔ نسب نامہ بالکل کھرا تھا۔
خود آپ کا فرمان ہے کہ سیدنا آدم سے لے کر مجھ تک بفضلہ کوئی برائی جاہلیت کی زناکاری وغیرہ نہیں پہنچی، ۱؎ [طبرانی اوسط:3483:حسن]‏‏‏‏ میں صحیح النسب ہوں۔ پھر اتنے نرم دل کہ امت کی تکلیفوں سے خود کانپ اٹھیں۔ آسان نرمی اور سادگی والا دین لے کر آئے ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:116/6:حسن]‏‏‏‏ جو بہت آسان ہے، سہل ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:39]‏‏‏‏ کامل ہے اور اعلیٰ اور عمدہ ہے۔ وہ تمہاری ہدایت کے متمنی ہیں، وہ دنیاوی، اخروی نفع تمہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں چھوڑا کہ جو پرند اڑ کر نکلتا اس کا علم بھی آپ ہمیں کر دیتے۔‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت سے قریب کرنے والی اور جہنم سے دور کرنے والی تمام چیزیں میں تم سے بیان کر چکا ہوں۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:153،162/5:صحیح]‏‏‏‏
آپ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر جو کچھ حرام کیا ہے وہ عنقریب تم پر ظاہر کر دینے والا ہے اور اس کی بازپرس قطعاً ہونے والی ہے۔ جس طرح پتنگے اور پروانے آگ پر گرتے ہوں اس طرح تم بھی گر رہے ہو اور میں تمہاری کولیاں بھربھر کر تمہیں اس سے روک رہا ہوں۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:390،424/1:حسن]‏‏‏‏
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سوئے ہوئے ہیں جو دو فرشتے آتے ہیں۔ ایک پاؤں کی طرف بیٹھتا ہے دوسرا سرہانے۔ پھر پاؤں والا سرہانے والے سے کہتا ہے۔
اس کی اور اس کی امت کی مثال بیان کرو اس نے فرمایا: یہ مثال سمجھو کہ ایک قوم سفر میں ہے ایک چٹیل میدان میں پہنچتی ہے جہاں ان کا سامان خوراک ختم ہو جاتا ہے اب نہ تو آگے بڑھنے کی قوت، نہ پیچھے ہٹنے کی سکت۔ ایسے وقت ایک بھلا آدمی اچھے لباس والا ان کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں اس بیابان سے چھٹکارا دلا کر ایسی جگہ پہنچا سکتا ہوں۔ جہاں تمہیں نتھرے ہوئے پانی کے لبالب حوض اور میووں کے لدے ہوئے درخت اور ہری بھری لہلہاتی کھیتیاں ملیں بشرطیکہ تم میرے پیچھے ہو لو۔ انہوں نے اس کی بات کو مان لیا اور وہ انہیں ایسی ہی جگہ لے گیا وہاں انہوں نے کھایا پیا اور خوب پھلے پھولے۔
اب اس نے کہا۔ دیکھو میں نے تمہیں اس بھوک پیاس سے نجات دلائی اور یہاں امن چین میں لایا۔ اب ایک اور بات تم سے کہتا ہوں وہ بھی مانو۔ اس سے آگے اس سے بھی بہتر جگہ ہے وہاں کے حوض، وہاں کے میوے، وہاں کے کھیت، اس سے بہت ہی اعلیٰ ہیں۔ ایک جماعت نے تو اسے سچا مانا اور ہاں کر لی۔ لیکن دوسرے گروہ نے اسی پر بس کر لیا اور اس کی تابعداری سے ہٹ گئے۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:268/1:ضعیف]‏‏‏‏
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجے۔ آؤ ایک واقعہ آپ کی کمال شفقت کا سنو! ایک اعرابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور خون بہا ادا کرنے کے لیے آپ سے امداد طلب کی۔ آپ نے اسے بہت کچھ دیا پھر پوچھا: کیوں صاحب میں نے تم سے سلوک کیا؟ اس نے کہا: کچھ بھی نہیں اس سے کیا ہو گا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم بہت بگڑے۔ قریب تھا کہ اسے لپٹ جائیں کہ اتنا لینے پر بھی یہ ناشکری کرتا ہے؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کا ایسا غلط اور گستاخانہ جواب دیتا ہے۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا گھر پر تشریف لے گئے۔ وہیں اسے بلوا لیا۔ سارا واقعہ کہہ سنایا۔ پھر اسے اور بھی بہت کچھ دیا۔ پھر پوچھا: کہو اب تو خوش ہو؟ اس نے کہا ہاں اب دل سے راضی ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے اہل و عیال میں ہم سب کی طرف سے نیک بدلہ دے۔‏‏‏‏
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! تم آئے۔ تم نے مجھ سے مانگا، میں نے دیا، پھر میں نے تم سے پوچھا کہ خوش ہو؟ تو تم نے الٹا پلٹا جواب دیا جس سے میرے صحابی رضی اللہ عنہم تم سے نالاں ہیں۔ اب میں نے پھر دے دلا کر تمہیں راضی کر لیا۔ اب تم ان کے سامنے بھی اسی طرح اپنی رضا مندی ظاہر کرنا جیسے اب تم نے میرے سامنے کی ہے تاکہ ان کا رنج بھی دور ہو جائے۔‏‏‏‏ اس نے کہا: بہت اچھا۔‏‏‏‏
چنانچہ جب وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں آپ کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو یہ شخص آیا تھا اس نے مجھ سے مانگا تھا، میں نے ایسے دیا تھا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا تھا، تو اس نے ایسا جواب دیا تھا جو تمہیں ناگوار گزرا۔ میں نے اسے پھر اپنے گھر بلوایا اور زیادہ دیا۔ تو یہ خوش ہو گیا۔ کیوں بھئی اعرابی یہی بات ہے؟ اس نے کہا: ہاں یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ آپ کو ہمارے اہل و عیال اور قبیلے کی طرف سے بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آپ نے مجھ سے بہت اچھا سلوک کیا۔ جزاک اللہ
اس وقت آپ نے فرمایا: میری اور اس اعرابی کی مثال سنو! جیسے وہ شخص جس کی اونٹنی بھاگ گئی لوگ اس کے پکڑنے کو دوڑے، وہ ان سے بدک کر اور بھاگنے لگی۔
آخر اوٹنی والے نے کہا: لوگو! تم ایک طرف ہٹ جاؤ مجھے اور میری اوٹنی کو چھوڑ دو، اس کی خو خصلت سے میں واقف ہوں اور یہ میری ہی ہے۔‏‏‏‏ چنانچہ اس نے نرمی سے اسے بلانا شروع کیا۔ زمین سے گھانس پھونس توڑ کر اپنی مٹھی میں لے کر اسے دکھایا اور اپنی طرف بلایا، وہ آ گئی۔ اس نے اس کی نکیل تھام لی اور پالان و کجاوہ ڈال دیا۔ سنو! اس کے پہلی دفعہ کے بگڑنے پر اگر میں بھی تمہارا ساتھ دیتا تو یہ جہنمی بن جاتا۔ ۱؎ 0مجمع الزوائد:16،12/9:ضعیف]‏‏‏‏ ابراہیم بن حکم بن ابان کے ضعف کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔
جیسے فرمان ہے کہ اے نبی! مومنوں کے سامنے اپنا بازو پست رکھو۔ لوگ میری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بری ہوں۔ تو ہمیشہ اپنا بھروسہ رب عزیز و رحیم پر رکھ۔ ۱؎ [26-الشعراء:215-217]‏‏‏‏
شریعت سے منہ موڑنے والون سے بے نیازی اختیار کیجئے ؛ یہاں بھی فرماتا ہے اگر یہ لوگ تیری شریعت سے منہ پھیر لیں تو تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میرا توکل اسی کی پاک ذات پر ہے۔ جیسے فرمان ہے مشرق و مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز ٹھہرا۔ ۱؎ [73۔المزمل:9]‏‏‏‏
وہ رب عرش عظیم ہے۔ یعنی ہرچیز کا مالک و خالق وہی ہے۔ عرش عظیم تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ آسمان و زمین اور کل کائنات بقدرت رب عرش تلے ہے۔ اس اللہ کا علم ہرچیز پر شامل ہے اور ہرچیز کو اپنے احاطے میں کئے ہوئے ہے۔ اس کی قدرت ہرچیز پر حاوی ہے وہ ہر ایک کا کارساز ہے۔ ابی بن کعب فرماتے ہیں سب سے آخری آیت قرآن کی یہی ہے۔