ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 127

وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ نَّظَرَ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ ؕ ہَلۡ یَرٰىکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا ؕ صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾
اور جب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان کا بعض بعض کی طرف دیکھتا ہے کہ کیا تمھیں کوئی دیکھ رہا ہے ؟ پھر واپس پلٹ جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں، اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے۔ En
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگتے ہیں (اور پوچھتے ہیں کہ) بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے پھر پھر جاتے ہیں۔ خدا نے ان کے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے
En
اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں کہ تم کو کوئی دیکھتا تو نہیں پھر چل دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا دل پھیر دیا ہے اس وجہ سے کہ وه بے سمجھ لوگ ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 127) ➊ {وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت کا نقشہ کھینچا ہے جب منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود ہوتے اور ان کے راز کھولنے والی یا جہاد کے حکم پر مبنی کوئی سورت یا آیات اترتیں، پھر وہ کمینگی اور شرارت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور موقع پا کر کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا، مجلس سے کھسک جاتے۔ ان کی سمجھ میں صاف آ رہا ہوتا کہ ان آیات کا مصداق وہی ہیں، کیونکہ جہاد کے لیے نکلنا ان کے لیے موت تھی اور اس مجلس میں بیٹھنا ان کے لیے سراسر تذلیل کا باعث ہوتا، چنانچہ وہ تائب ہونے کے بجائے نکل جانے کو ترجیح دیتے۔ فرمایا: «{ قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا [النور: ۶۳] بے شک اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں۔
➋ { صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ:} اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہی نہیں کہ ہماری فلاح اور بھلائی کس چیز میں ہے، یا یہ بددعا ہے کہ وہ اس کے اہل ہیں کہ ان کے حق میں کہا جائے کہ اللہ ان کے دلوں کو پھیر دے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

127۔ 1 یعنی ان کی موجودگی میں سورت نازل ہوتی جس میں منافقین کی شرارتوں اور سازشوں کی طرف اشارہ ہوتا تو پھر یہ دیکھ کر کہ مسلمان انہیں دیکھ تو نہیں رہے، خاموشی سے کھسک جاتے۔ 127۔ 2 یعنی آیات الٰہی میں غور و تدبر نہ کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں کو خیر اور ہدایت سے پھیر دیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

127۔ اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ منافق آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کی طرف اشارہ کر کے پوچھتے ہیں کہ: ”کیا تمہیں کوئی (مسلمان) تو نہیں دیکھ رہا؟“ [146] پھر وہاں سے واپس چلے جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں کو (راہ حق سے) پھیر دیا ہے کیونکہ یہ لوگ ہیں ہی ایسے جو کچھ [147] بھی نہیں سمجھتے
[146] وحی نازل ہونے کے بعد آپﷺ کا صحابہ کو مسجد میں بلا کر وحی سنانا:۔
جب کوئی سورت نازل ہوتی تو بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو مسجد نبوی میں بلا کر بطور خطبہ انہیں یہ سورت سنا دیا کرتے۔ اب منافقوں کی مجبوری یہ تھی کہ انہیں ایسے اعلان پر مسجد میں جانا پڑتا تھا اور اپنے آپ سے نفاق کا شبہ دور کرنے کے لیے انہیں ایسی حاضری لگوانا ہی پڑتی تھی مگر اس بیگار کو زیادہ دیر تک برداشت بھی نہ کر سکتے تھے اور چاہتے یہ تھے کہ حاضری لگوانے کے بعد فوراً مسلمانوں سے نظریں بچا کر نکل جائیں اور ان میں سے اکثر یہی کچھ کرتے تھے۔ تو جب ان لوگوں نے رشد و ہدایت کی مجلس سے یوں بھاگنا شروع کیا تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ویسا ہی بنا دیا۔
[147] یعنی ہر سال ایک یا دو دفعہ رسوا ہونے کے باوجود انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ہمیں اس رسوائی سے نجات کیسے مل سکتی ہے اور اس کے بجائے عزت کیسے نصیب ہو سکتی ہے نیز ہماری دین و دنیا کی بھلائی کس بات میں ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا ٭٭
یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضرور وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے، کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ بیچین ہو رہے ہیں۔
فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کاموں میں سختی بڑھ رہی ہے۔ بخیلی عام ہو رہی ہے ہر سال اپنے سے پہلے کے سال سے بد آ رہا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7068]‏‏‏‏
جب کوئی سورت اترتی ہے ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا؟ پھر حق سے پلٹ جاتے ہیں نہ حق کو سمجھیں نہ مانیں۔ وعظ سے منہ پھیرلیں اور ایسے بھاگیں جیسے گدھا شیر سے۔ حق کو سنا اور دائیں بائیں کھسک گئے۔ ان کی اس بےایمانی کا بدلہ یہی ہے کہ اللہ نے ان کے دل بھی حق سے پھیر دیئے۔ ان کی کجی نے ان کے دل بھی ٹیرھے کر دیئے۔ یہ بدلہ ہے اللہ کے خطاب کو بےپرواہی کر کے نہ سمجھنے کا اس سے بھاگنے اور منہ موڑ لینے کا۔