اور کیا ان کو نہیں دکھلائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں
En
(آیت 126) {اَوَلَايَرَوْنَاَنَّهُمْيُفْتَنُوْنَ …:} اکثر جنگ و جہاد کے وقت منافق معلوم ہو جاتے تھے (مگر پھر بھی وہ نفاق پر قائم رہتے تھے)۔ (موضح) اسی طرح ہر آدمی پر کوئی نہ کوئی آزمائش بیماری یا خوف وغیرہ کی صورت میں ہر سال ایک دو مرتبہ آتی رہتی ہے، تاکہ اسے سوچنے کا موقع ملے، فرمایا: «{ وَلَنُذِيْقَنَّهُمْمِّنَالْعَذَابِالْاَدْنٰىدُوْنَالْعَذَابِالْاَكْبَرِلَعَلَّهُمْيَرْجِعُوْنَ }»[السجدۃ: ۲۱]”اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔“ سعادت مندوں کو اس سے توبہ اور نصیحت حاصل کرنے کی توفیق ملتی ہے، مگر منافق محروم رہتا ہے۔ پہلا معنی اس مقام پر زیادہ موزوں ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
126۔ 1 یفتنون کے معنی ہیں آزمائے جاتے ہیں۔ آفت سے مراد یا تو آسمانی آفات ہیں مثلًا قحط سالی وغیرہ (مگر یہ بعید ہے) یا جسمانی بیماریاں اور تکالیف ہیں یا غزوات ہیں جن میں شرکت کے موقع پر ان کی آزمائش ہوتی تھی۔ سیاق کلام کے اعتبار سے یہ مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
126۔ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ انہیں ہر سال ایک بار یا دو بار [145] کوئی نہ کوئی مصیبت پیش آ جاتی ہے پھر بھی یہ لوگ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں
[145] یعنی کوئی سال ایسا نہیں گزرتا جس میں سال میں ایک یا دو دفعہ ان کی رسوائی نہ ہوتی ہو۔ کبھی ان کی کوئی سازش پکڑی جاتی ہے کبھی ان کا راز فاش ہو جاتا ہے۔ کبھی کوئی جنگ پیش آجاتی ہے جو ان کے ایمان کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ کبھی یہ لوگ خود ہی ایسی بکواس کر بیٹھتے ہیں جن کی وجہ سے انہیں رسوا ہونا پڑتا ہے اور جب بھی کوئی ایسا موقع پیش آتا ہے تو بجائے اس کے کہ وہ سیدھی راہ پر آ جائیں مکر و فریب اور جھوٹ سے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے دلوں کی نجاست میں ہر آن اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا ٭٭
یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضرور وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے، کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ بیچین ہو رہے ہیں۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کاموں میں سختی بڑھ رہی ہے۔ بخیلی عام ہو رہی ہے ہر سال اپنے سے پہلے کے سال سے بد آ رہا ہے۔ ۱؎[صحیح بخاری:7068] جب کوئی سورت اترتی ہے ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا؟ پھر حق سے پلٹ جاتے ہیں نہ حق کو سمجھیں نہ مانیں۔ وعظ سے منہ پھیرلیں اور ایسے بھاگیں جیسے گدھا شیر سے۔ حق کو سنا اور دائیں بائیں کھسک گئے۔ ان کی اس بےایمانی کا بدلہ یہی ہے کہ اللہ نے ان کے دل بھی حق سے پھیر دیئے۔ ان کی کجی نے ان کے دل بھی ٹیرھے کر دیئے۔ یہ بدلہ ہے اللہ کے خطاب کو بےپرواہی کر کے نہ سمجھنے کا اس سے بھاگنے اور منہ موڑ لینے کا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔