(آیت 9){ وَثَمُوْدَالَّذِيْنَجَابُواالصَّخْرَبِالْوَادِ: ”جَابُوْا“”جَابَيَجُوْبُجَوْبًا“} (ن) کاٹنا۔ {”الصَّخْرَ“} اسم جنس ہے، چٹانیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ ثمود پہلے لوگ ہیں جنھوں نے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے۔ (شوکانی) آج کل اس ”وادی القریٰ“ کا نام ”العلاء“ ہے جو سعودی عرب میں ہے اور وہ مدائن صالح (جو ثمود کا مرکزی شہر تھا) سے تقریباً بیس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ (دیکھیے سورۂ حجر: ۸۲) (اشرف الحواشی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9۔ 1 یہ حضرت صالح کی قوم تھی اللہ نے اسے پتھر تراشنے کی خاص صلاحیت وقوت عطا کی تھی، حتی کہ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنی رہائش گاہیں تعمیر کرلیتے تھے، جیسا کہ قرآن نے کہا ہے (وَتَنْحِتُوْنَمِنَالْجِبَالِبُيُوْتًافٰرِهِيْنَ 149ۚ) 26۔ الشعراء:149)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ اور ثمود کے ساتھ (کیا سلوک کیا) جنہوں نے وادی [8] میں چٹانیں تراشی تھیں
[8] ذکر قوم ثمود :۔
دوسری قوم ثمود تھی جسے عاد ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ماہر سنگ تراش تھی۔ پہاڑوں کے اندر اپنے مکان تو کجا شہروں کے شہر پتھروں کو تراش تراش کر بنا رکھے تھے ان لوگوں کا مسکن وادی القریٰ تھا جو مدینہ اور تبوک کے راستہ پر پڑتا ہے۔ یہ بھی آخرت کے منکر فلہٰذا اللہ کے باغی تھے۔ اللہ نے انہیں زلزلے اور چیخ کے عذاب سے تباہ کر دیا۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ ان کے پتھروں کے مکانوں میں دراڑیں اور شگاف پڑ گئے۔ پھر ان میں سے بہت سے مکان پہاڑ کے بوجھ کی وجہ سے کھنڈر بن گئے اور وہ خود زلزلہ اور چیخ کی تاب نہ لا کر مر گئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔