اس آیت کی تفسیر آیت 7 میں تا آیت 9 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 یعنی ان جیسی دراز قامت اور قوت وطاقت والی قوم کوئی اور پیدا نہیں ہوئی، یہ قوم کہا کرتی تھی (من اشد منا قوۃ) ہم سے زیادہ کوئی طاقتور ہے؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ممالک [7] میں پیدا نہیں کی گئی
[7] یعنی اتنی بلند قامت، زور آور اور مضبوط قوم روئے زمین پر اور کہیں موجود نہ تھی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس دور میں ساری دنیا میں انہیں کا ڈنکا بجتا تھا، کوئی دوسری قوم ان کی ٹکر کی موجود نہ تھی۔ یہ لوگ بھی آخرت کے منکر فلہٰذا بد کردار اور اللہ کے باغی تھے۔ ان پر سخت ٹھنڈی اور تیز آندھی کا عذاب آیا جس نے انہیں تہس نہس کر کے رکھ دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔