ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفجر (89) — آیت 7

اِرَمَ ذَاتِ الۡعِمَادِ ۪ۙ﴿۷﴾
( وہ عاد) جو ارم ( قبیلہ کے لوگ) تھے، ستونوں والے۔ En
(جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد
En
ستونوں والے ارم کے ساتھ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 6 میں تا آیت 8 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 ارم یہ قوم عاد کے دادا کا نام ہے، ان کا سلسلہ نسب ہے عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح (فتح القدیر) ذات العماد سے اشارہ ہے ان کی قوت وطاقت اور دراز قامتی کی طرف، علاوہ ازیں وہ فن تعمیر میں بھی بری مہارت رکھتے تھے اور نہایت مضبوط بنا دوں پر عظیم الشان عمارتیں تعمیر کرتے تھے۔ ذات العماد میں دونوں ہی مفہوم شامل ہوسکتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اونچے ستونوں والے (عاد) ارم [6] کے ساتھ
[6] ذکر قوم عاد :۔
ان شہادتوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قوم عاد کا ذکر کیا۔ قوم عاد کو عاد اولیٰ بھی کہا جاتا ہے اور عاد ارم بھی۔ عاد ارم وہ اس لحاظ سے ہیں کہ ارم بن سام بن نوح کی اولاد تھے اور ذات العماد کی کئی توجیہیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خود بہت بلند و بالا قد و قامت رکھتے تھے۔ دوسری یہ کہ بلند و بالا عمارتیں بنانے کا آغاز انہوں نے ہی کیا تھا۔ تیسری یہ کہ جب وہ سفر کرتے تھے تو اپنے خیمے نصب کرنے کے لیے بہت اونچی اور مضبوط لکڑیاں استعمال کرتے تھے جیسے وہ ستون ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔