(آیت 7،6){ اَلَمْتَرَكَيْفَفَعَلَرَبُّكَبِعَادٍ…: ”الْعِمَادِ“} اسم جنس ہے جو واحد و جمع سب پر آتا ہے، ستون۔ {”اِرَمَ“} نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک آدمی کا نام ہے جس کی نسل سے عاد ارم تھے۔ عاد ارم سے مراد عاد اولیٰ ہیں جن کی طرف ہود علیہ السلام بھیجے گئے تھے اورعاد ثانیہ یا عاد اخریٰ ثمود کو کہتے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ ارم خاص اس جگہ کا نام تھا جہاں عاد رہتے تھے۔ (واللہ اعلم) البتہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ان لوگوں کی باتوں کو خرافات قرار دیا ہے جنھوں نے ارم ایک ایسا شہر بیان کیا ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی تھی۔ {”ذَاتِالْعِمَادِ“} کا لفظی معنی ہے ”ستونوں والے۔“ ان کا یہ لقب اس لیے ہے کہ وہ بڑے قد آور تھے (جس طرح کھجوروں کے تنے۔ دیکھیے حاقہ: ۷) اور اس لیے بھی کہ وہ بڑے بڑے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے اور محض شان و شوکت کے اظہار کے لیے اونچی سے اونچی یاد گاریں بناتے تھے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۱۲۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 ان کی طرف حضرت ہود ؑ کو نبی بنا کر بھیجے گئے تھے انہوں نے جھٹلایا، بالآخر اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کا عذاب بھیجا۔ جو متواتر سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی اور انہیں نہس تہس کر کے رکھ دیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ آپ کے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔