ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفجر (89) — آیت 5

ہَلۡ فِیۡ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیۡ حِجۡرٍ ؕ﴿۵﴾
یقینا اس میں عقل والے کے لیے بڑی قسم ہے۔ En
اور بے شک یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق ہیں کہ (کافروں کو ضرور عذاب ہو گا)
En
کیا ان میں عقلمند کے واسطے کافی قسم ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) ➊ {هَلْ فِيْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِيْ حِجْرٍ: هَلْ } کے معنی کے لیے دیکھیے سورۂ دہر کی پہلی آیت۔ {حَجَرَ يَحْجُرُ} (ن) منع کرنا، روکنا۔ عقل کو { حِجْرٍ } اس لیے کہتے ہیں کہ وہ آدمی کو ہر غلط کام سے روکتی اور منع کرتی ہے۔
➋ قرآن مجید میں مذکور قسمیں عام طور پر کسی نہ کسی بات کی شہادت اور دلیل کے لیے آتی ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قسمیں کھا کر عقل والوں کو کیا باور کروایا جارہا ہے؟ جواب اگرچہ لفظوں میں موجود نہیں مگر آئندہ آیات سے صاف واضح ہے، یعنی ان سب چیزوں پر غور کرو تو تمھیں یقین ہو جائے گا کہ اتنے زبردست تغیرات لانے والا پروردگار اس بات پر قادر ہے کہ تمھیں دوبارہ زندہ کرکے تمھیں تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے اور اگر تم سرکشی پر اڑے رہے تو عاد و ثمود اور قوم فرعون کی طرح دنیا میں بھی تم پر عذاب کا کوڑا برسا دے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 ذٰلِکَ سے مذکورہ قسمیں بہ اشیا کی طرف اشارہ ہے یعنی کیا ان کی قسم اہل عقل و دانش کے واسطے کافی نہیں۔ حجر کے معنی ہیں روکنا، منع کرنا، انسانی عقل بھی انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے اس لیے عقل کو بھی حجر کہا جاتا ہے۔ آگے بہ طریق استشہاد اللہ تعالیٰ بعض ان قوموں کا ذکر فرما رہے ہیں جو تکذیب وعناد کی بناء پر ہلاک کی گئی تھیں، مقصد اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہمارے رسول کی تکذیب سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی اسی طرح مواخذہ ہوسکتا ہے جیسے گزشتہ قوموں کا اللہ نے کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ ان باتوں میں اہل عقل کے لیے ضرور ایک بھاری قسم [5] ہے
[5] ﴿حِجر بمعنی پتھر اور ہر ٹھوس اور سخت چیز جو آڑ کا کام دے سکے۔ اور عقل کو بھی حجر کہتے ہیں وہ اس لحاظ سے کہ وہ بھی ہر اس چیز کو جو نقصان دہ ہو روک دیتی ہے۔ اور ﴿ذي حجر﴾ یعنی صاحب عقل یا عقلمند۔ اور اس آیت کا دوسرا ترجمہ یوں بھی ہو سکتا ہے: کیا یہ (مذکور چار چیزیں) عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق نہیں؟ مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی نکلتا ہے یعنی مذکورہ اشیاء اس نظام کائنات کے نہایت اہم اجزا اور اپنے اپنے مقام پر بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ پھر کیا وہ ہستی جو ایسا نظام کائنات چلا رہی ہے عالم آخرت کو وجود میں نہ لا سکے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔