اس آیت کی تفسیر آیت 19 میں تا آیت 21 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
20۔ اور مال سے بہت [13] زیادہ محبت کرتے ہو
[13] یعنی کسی کی عزت و ذلت کو ماپنے والی تمہاری قدر ہی سراسر غلط ہے۔ عزت و ذلت کا اصل معیار پیسہ اور مال و دولت نہیں بلکہ اس کا اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار ہوتا ہے۔ مگر تمہارا یہ حال ہے کہ مال و دولت کو ہی اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو اور اسی پر مر مٹتے ہو۔ یتیموں اور بیواؤں کی عزت کرنا تو درکنار ان کے پاس اگر کوئی چیز موجود ہو تو اسے بھی اڑا لینے کی کوشش کرتے ہو۔ تمہاری پیسہ سے محبت اور بخل کا یہ حال ہے کہ کسی مسکین کی احتیاج دور کرنے کے لیے اسے کچھ دینا یا کھانا کھلانا تو درکنار دوسروں کو ترغیب بھی نہیں دیتے۔ میت کی وراثت سے بیوہ کو لڑکیوں کو اور بچوں سب کو محروم کر دیتے ہو۔ اور جس کا زور چلتا ہے وہ ہی ساری میراث ہڑپ کر جاتا ہے تمہیں تو بس پیسہ ہی چاہیے اور اس کے حصول کے لیے ہر جائز اور نا جائز ذریعہ اختیار کرنے پر پہلے سے ہی تیار بیٹھے ہوتے ہو۔ تمہارے لچھن یہ ہوں تو اللہ کے نزدیک تمہاری عزت کیوں ہو؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔