ترجمہ و تفسیر — سورۃ الغاشية (88) — آیت 6

لَیۡسَ لَہُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِیۡعٍ ۙ﴿۶﴾
ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا مگر ضریع سے۔ En
اور خار دار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں (ہو گا)
En
ان کے لئے سوائے کانٹے دار درختوں کے اور کچھ کھانے کو نہ ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6){ لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ: ضَرِيْعٍ } ایک خاردار پودا ہے جو تازہ ہو تو اہل حجاز اسے {شِبْرِقٌ} کہتے ہیں اور خشک ہو تو {ضَرِيْعٌ} جو سخت زہریلا ہوتا ہے۔ [دیکھیے بخاري، التفسیر، سورۃ: { ہل أتاک… }، بعد ح: ۴۹۴۱]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے، بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ، اور ناپاک ترین کھانا ہوگا جو جزو بدن بنے گا نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ خار دار سوکھی گھاس [4] کے علاوہ ان کے لیے کوئی کھانا نہ ہو گا
[4] دوزخیوں کی مختلف غذائیں :۔
﴿ضَرِيْعٌ ایک خار دار گھاس جس کا ذائقہ انتہائی تلخ اور بو ناگوار ہوتی ہے اور جب سوکھ جاتی ہے تو زہر بن جاتی ہے۔ عربی میں اسے شبرق بھی کہتے ہیں۔ اہل دوزخ کی یہی غذا ہو گی۔ واضح رہے کہ قرآن میں بعض مقامات پر اہل دوزخ کی خوراک تھوہر کا درخت ذکر ہوئی ہے اور بعض مقامات پر غسلین بھی زخموں کا دھوون اور اس مقام پر ﴿ضريع﴾ بتائی گئی ہے۔ اس کی وجہ ایک تو یہ ہو سکتی ہے کہ مختلف قسم کے مجرموں کی خوراک مختلف ہو، دوسری وجہ اختلاف زمانہ ہے یعنی کسی دور میں ایک قسم کی خوراک دی جائے گی اور دوسرے دور میں دوسری قسم کی اور اس کی تیسری وجہ تنوع بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی کبھی ایک خوراک دی جائے اور کبھی دوسری اور کبھی تیسری۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔