اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ اِنَّہٗ یَعۡلَمُ الۡجَہۡرَ وَ مَا یَخۡفٰی ؕ﴿۷﴾
مگر جو اللہ چاہے۔ یقینا وہ کھلی بات کو جانتا ہے اور اس بات کو بھی جو چھپی ہوئی ہے۔
En
مگر جو خدا چاہے۔ وہ کھلی بات کو بھی جانتا ہے اور چھپی کو بھی
En
مگر جو کچھ اللہ چاہے۔ وه ﻇاہر اور پوشیده کو جانتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 7) ➊ { اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ:} یعنی اللہ تعالیٰ جو چاہے بھلا دے۔ بعض اوقات کچھ آیات اس طرح بھی منسوخ کی جاتی تھیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھلا دی جاتیں، جیسا کہ فرمایا: «مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا» [البقرۃ: ۱۰۶] ”جو آیت ہم منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آتے ہیں۔“
➋ {اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا يَخْفٰى:} ”وہ کھلی اور چھپی سب باتیں جانتا ہے“ یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ بیان فرمائی ہے کہ وہ کھلی اور چھپی سب باتیں جانتا ہے، کوئی بات اونچی آواز سے کی گئی ہو یا آہستہ یا بالکل مخفی ہو وہ سب کچھ جانتا ہے۔ (دیکھیے رعد: ۱۰۔ طہ: ۷۔ انعام: ۳۔ انبیاء: ۱۱۰۔ ملک: ۱۳) ابن جوزی کے استاذ وزیر ابن ہبیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس بات پر بہت غور کیا کہ چھپی ہوئی باتوں کو تو واقعی صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، مگر بلند آواز سے کی گئی باتیں تو ہم بھی جانتے اور سمجھتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان باتوں کے جاننے کو اپنی خاص صفت کے طور پر کیوں بیان فرما رہے ہیں؟ پھر میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ بلند آواز کے ساتھ اگر ایک وقت میں کئی آدمی بولنا شروع کر دیں تو ہمیں کچھ پتا نہیں چلتا، یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے کہ وہ ساری مخلوق کی بلند آوازسے کی ہوئی باتیں سنتا ہے اور چھپی ہوئی باتیں بھی۔ اس مقام پر یہ صفت بیان کرنے کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ جب جبریل علیہ السلام پڑھیں تو آپ یاد کرنے کے لیے ساتھ ساتھ نہ پڑھیں، ان کے ساتھ ساتھ پڑھیں گے تو سمجھنا مشکل ہو گا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ بلند آواز سے کی گئی باتیں ہوں، خواہ کروڑوں لوگوں کی ہوں یا چھپی ہوئی، وہ سب جانتا ہے۔
➋ {اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا يَخْفٰى:} ”وہ کھلی اور چھپی سب باتیں جانتا ہے“ یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ بیان فرمائی ہے کہ وہ کھلی اور چھپی سب باتیں جانتا ہے، کوئی بات اونچی آواز سے کی گئی ہو یا آہستہ یا بالکل مخفی ہو وہ سب کچھ جانتا ہے۔ (دیکھیے رعد: ۱۰۔ طہ: ۷۔ انعام: ۳۔ انبیاء: ۱۱۰۔ ملک: ۱۳) ابن جوزی کے استاذ وزیر ابن ہبیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس بات پر بہت غور کیا کہ چھپی ہوئی باتوں کو تو واقعی صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، مگر بلند آواز سے کی گئی باتیں تو ہم بھی جانتے اور سمجھتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان باتوں کے جاننے کو اپنی خاص صفت کے طور پر کیوں بیان فرما رہے ہیں؟ پھر میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ بلند آواز کے ساتھ اگر ایک وقت میں کئی آدمی بولنا شروع کر دیں تو ہمیں کچھ پتا نہیں چلتا، یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے کہ وہ ساری مخلوق کی بلند آوازسے کی ہوئی باتیں سنتا ہے اور چھپی ہوئی باتیں بھی۔ اس مقام پر یہ صفت بیان کرنے کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ جب جبریل علیہ السلام پڑھیں تو آپ یاد کرنے کے لیے ساتھ ساتھ نہ پڑھیں، ان کے ساتھ ساتھ پڑھیں گے تو سمجھنا مشکل ہو گا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ بلند آواز سے کی گئی باتیں ہوں، خواہ کروڑوں لوگوں کی ہوں یا چھپی ہوئی، وہ سب جانتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 یہ بھی عام ہے جہر قرآن کا وہ حصہ ہے جسے رسول اللہ یاد کرلیں اور جو آپ کے سینے سے محو کردیا جائے وہ مخفی ہے۔ خفی چھپ کر عمل کرے اور جہر ظاہر ان سب کو اللہ جانتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ بجز اس کے جو [6] اللہ چاہے، وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور پوشیدہ بھی
[6] جب وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہ تکلف وحی کے الفاظ یاد رکھنے پر زیاد توجہ دیتے تھے اور زبان سے ان الفاظ کی ادائیگی کی کوشش بھی کرتے تھے جس سے آپ کی توجہ بٹ جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی ذمہ داری لی اور فرمایا کہ آپ صرف توجہ سے سنا کریں۔ بعد میں بعینہٖ وحی کے الفاظ کو آپ کی زبان سے ادا کروا دینا ہمارا کام ہے۔ نیز یہ وحی کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں محفوظ رہیں گے۔ آپ انہیں بھولیں گے نہیں۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو آپ بھول بھی سکتے ہیں۔ اب اس کو بھولنے کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ آپ ایک دفعہ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اور قراءت کے دوران ایک آیت چھوڑ گئے۔ نماز کے بعد سیدنا ابی بن کعب نے پوچھا: کیا یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں بھول گیا تھا۔ [ابو داؤد، کتاب الصلوٰۃ۔ باب فی فتح علی الامام فی الصلوٰۃ] اور دوسری صورت وہی ہے جس کا اس حدیث میں بھی ذکر موجود ہے۔ یعنی کوئی آیت ہی منسوخ کر دی جائے۔ یہاں بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جو آیات اللہ نے نازل کر دیں پھر ان کو منسوخ کرنے اور بھلا دینے کے کیا معنی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں بعض آیات اور احکام ایک مخصوص مدت کے لیے نازل ہوئے۔ بعد میں ان کا باقی رکھنا ضروری نہ رہا۔ جیسے سیدنا ابن عباسؓ کی قرائت کے مطابق فما استمتعتم بہ منھن کے آگے الیٰ اجل مسمیٰ کے الفاظ بھی موجود تھے۔ پھر جب متعہ کو مکمل طور پر حرام کر دیا گیا تو اس قرات کے یہ الفاظ بھی منسوخ کر دیے گئے۔ اور اس قسم کی منسوخی کے متعلق قرآن میں بے شمار آیات ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے۔ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 106، سورۃ رعد کی آیات نمبر 39۔ 40، سورۃ النحل کی آیت نمبر 101، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کا احاطہ کرنا اسی کی شان ہے۔ وہ نازل شدہ وحی میں سے اگر یہ مناسب سمجھے کہ اب اس آیت کی ضرورت نہیں رہی تو وہ اسے منسوخ بھی کر سکتا ہے اور اس منسوخی کی آسان شکل یہ تھی کہ جب آپ جبریل سے دور کرتے تو وہ آیت یا اس کے کچھ الفاظ آپ کو بھلا دیئے جاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر فرماتا ہے کہ ’ تجھے ہم اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایسا پڑھائیں گے جسے تو بھولے نہیں ہاں اگر خود اللہ کوئی آیت بھلا دینا چاہے تو اور بات ہے ‘۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ تو اسی مطلب کو پسند کرتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:544/12]
اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول، ہاں جسے ہم خود منسوخ کر دیں اس کی اور بات ہے، اللہ پر بندوں کے چھپے، کھلے اعمال، احوال، عقائد سب ظاہر ہیں۔ ہم تجھے بھلائی کے کام، اچھی باتیں، شرعی امر آسان کر دیں گے نہ اس میں کجی ہو گی، نہ سختی، نہ جرم ہو گا، تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیئے جیسے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آ سکیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہو جائیں گی، بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں۔
اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول، ہاں جسے ہم خود منسوخ کر دیں اس کی اور بات ہے، اللہ پر بندوں کے چھپے، کھلے اعمال، احوال، عقائد سب ظاہر ہیں۔ ہم تجھے بھلائی کے کام، اچھی باتیں، شرعی امر آسان کر دیں گے نہ اس میں کجی ہو گی، نہ سختی، نہ جرم ہو گا، تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیئے جیسے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آ سکیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہو جائیں گی، بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں۔
پھر فرمایا کہ اس سے نصیحت وہ حاصل کرے گا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہے جو اس کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے اور اس سے عبرت و نصیحت حاصل نہیں کر سکتا جو بدبخت ہو، جو جہنم میں جانے والا ہو، جہاں نہ تو راحت کی زندگی ہے، نہ بھلی موت ہے، بلکہ وہ لازوال عذاب اور دائمی برائی ہے اس میں طرح طرح کے عذاب اور بدترین سزائیں ہیں۔
مسند احمد میں ہے کہ { جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئے گی نہ کارآمد زندگی ملے گی۔ ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مر جائیں گے، پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے، پھر نہر حیات میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائے گا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے، پھر زرد، پھر ہرا۔ لوگ کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4309،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے۔
قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے «وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:77] یعنی ’ جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دیدے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو ‘۔
اور جگہ ہے «لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» ۱؎ [35-فاطر:36] الخ یعنی ’ نہ تو ان کی موت آئے گی نہ عذاب کم ہوں گے ‘ اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔
مسند احمد میں ہے کہ { جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئے گی نہ کارآمد زندگی ملے گی۔ ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مر جائیں گے، پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے، پھر نہر حیات میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائے گا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے، پھر زرد، پھر ہرا۔ لوگ کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4309،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے۔
قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے «وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:77] یعنی ’ جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دیدے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو ‘۔
اور جگہ ہے «لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» ۱؎ [35-فاطر:36] الخ یعنی ’ نہ تو ان کی موت آئے گی نہ عذاب کم ہوں گے ‘ اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔