سَنُقۡرِئُکَ فَلَا تَنۡسٰۤی ۙ﴿۶﴾
ہم ضرور تجھے پڑھائیں گے تو تو نہیں بھولے گا۔
En
ہم تمہیں پڑھا دیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے
En
ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو نہ بھولے گا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت6) {سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قیامہ کی آیات (۱۶ تا 19) کی تفسیر۔ یہ پیشین گوئی ابتدائے اسلام میں مکہ کے اندر ہوئی، پھر سب لوگوں نے دیکھا کہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک دفعہ جبریل علیہ السلام سے سن کر کسی کتابت یا تکرار کے بغیر اتنا بڑا قرآن حفظ ہوگیا۔ یہ قرآن کا بھی معجزہ ہے کہ اس کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی جنھیں قرآن یاد ہوا اور پھر بھولا نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 حضرت جبرائیل ؑ وحی لے کر آتے تو آپ جلدی جلدی پڑھتے تاکہ بھول نہ جائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس طرح جلدی نہ کریں، نازل شدہ وحی ہم آپ کو پڑھوائیں گے، یعنی آپ کی زبان پر جاری کردیں گے۔ پس آپ بھولیں گے نہیں۔ مگر جسے اللہ چاہے گا لیکن اللہ نے ایسا نہیں چاہا، اس لیے آپ کو سب کچھ یاد ہی رہا بعض نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے کہ جن کو اللہ منسوخ کرنا چاہے گا وہ آپ کو بھلوا دے گا (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ ہم آپ کو پڑھا دیں گے پھر آپ بھولیں گے نہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر فرماتا ہے کہ ’ تجھے ہم اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایسا پڑھائیں گے جسے تو بھولے نہیں ہاں اگر خود اللہ کوئی آیت بھلا دینا چاہے تو اور بات ہے ‘۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ تو اسی مطلب کو پسند کرتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:544/12]
اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول، ہاں جسے ہم خود منسوخ کر دیں اس کی اور بات ہے، اللہ پر بندوں کے چھپے، کھلے اعمال، احوال، عقائد سب ظاہر ہیں۔ ہم تجھے بھلائی کے کام، اچھی باتیں، شرعی امر آسان کر دیں گے نہ اس میں کجی ہو گی، نہ سختی، نہ جرم ہو گا، تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیئے جیسے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آ سکیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہو جائیں گی، بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں۔
اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول، ہاں جسے ہم خود منسوخ کر دیں اس کی اور بات ہے، اللہ پر بندوں کے چھپے، کھلے اعمال، احوال، عقائد سب ظاہر ہیں۔ ہم تجھے بھلائی کے کام، اچھی باتیں، شرعی امر آسان کر دیں گے نہ اس میں کجی ہو گی، نہ سختی، نہ جرم ہو گا، تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیئے جیسے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آ سکیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہو جائیں گی، بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں۔
پھر فرمایا کہ اس سے نصیحت وہ حاصل کرے گا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہے جو اس کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے اور اس سے عبرت و نصیحت حاصل نہیں کر سکتا جو بدبخت ہو، جو جہنم میں جانے والا ہو، جہاں نہ تو راحت کی زندگی ہے، نہ بھلی موت ہے، بلکہ وہ لازوال عذاب اور دائمی برائی ہے اس میں طرح طرح کے عذاب اور بدترین سزائیں ہیں۔
مسند احمد میں ہے کہ { جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئے گی نہ کارآمد زندگی ملے گی۔ ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مر جائیں گے، پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے، پھر نہر حیات میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائے گا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے، پھر زرد، پھر ہرا۔ لوگ کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4309،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے۔
قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے «وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:77] یعنی ’ جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دیدے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو ‘۔
اور جگہ ہے «لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» ۱؎ [35-فاطر:36] الخ یعنی ’ نہ تو ان کی موت آئے گی نہ عذاب کم ہوں گے ‘ اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔
مسند احمد میں ہے کہ { جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئے گی نہ کارآمد زندگی ملے گی۔ ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مر جائیں گے، پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے، پھر نہر حیات میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائے گا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے، پھر زرد، پھر ہرا۔ لوگ کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4309،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے۔
قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے «وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:77] یعنی ’ جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دیدے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو ‘۔
اور جگہ ہے «لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» ۱؎ [35-فاطر:36] الخ یعنی ’ نہ تو ان کی موت آئے گی نہ عذاب کم ہوں گے ‘ اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔