اس آیت کی تفسیر آیت 4 میں تا آیت 6 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 گھاس خشک ہوجائے تو اسے غثاء کہتے ہیں، احوی سیاہ کردیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ پھر اسے سیاہ کوڑا کرکٹ بنا دیا [5]
[5]﴿مَرعٰي﴾ کا لغوی معنی چارہ ہے۔ یعنی جانوروں کی خوراک جو تازہ ہو یعنی گھاس وغیرہ تاہم اس کے وسیع معنوں میں تمام نباتات بھی شامل ہے۔ یعنی اللہ ہی ہے جو زمین پر بہار اور موسم بہار لاتا ہے۔ پھر موسم خزاں بھی لاتا ہے۔ اور اس تازہ نباتات کے فالتو اجزا خس و خاشاک بن کر پاؤں کے نیچے مسلے جاتے ہیں۔ لہٰذا تم لوگوں کو اس دنیا کی بہار پر ہی فریفتہ نہ ہو جانا چاہئے اس پر خزاں بھی آسکتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔