ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعلى (87) — آیت 2

الَّذِیۡ خَلَقَ فَسَوّٰی ۪ۙ﴿۲﴾
وہ جس نے پیدا کیا، پس درست بنایا۔ En
جس نے (انسان کو) بنایا پھر (اس کے اعضاء کو) درست کیا
En
جس نے پیدا کیا اور صحیح سالم بنایا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2){ الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى: الَّذِيْ خَلَقَ } (جس نے پیدا کیا) اس کا مفعول بہ محذوف ہے، یعنی یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ کسے پیدا کیا، کیونکہ پیدا کرنا کام اسی کا ہے اور سب اسی کی مخلوق ہیں۔ { فَسَوّٰى } پس درست بنایا یعنی ہر چیز کو ٹھیک، متوازن اور عمدہ ترین شکل میں بنایا، کوئی چیز بے ڈھب اور غیر متوازن نہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏الَّذِيْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ» ‏‏‏‏ [السجدۃ: ۷] وہ جس نے جو چیز پیدا کی خوب صورت پیدا کی۔ اس آیت میں اور اس کے بعد کی آیات میں رب تعالیٰ کی بعض وہ صفات بیان ہوئی ہیں جن کی وجہ سے وہ تسبیح کا مستحق ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

2۔ 1 دیکھیے سورة انفطار کا حاشیہ نمبر 7

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ جس نے پیدا کیا پھر اسے درست [2] کیا
[2] یعنی اللہ تعالیٰ نے کائنات کی سب اشیاء کو پیدا ہی نہیں کیا بلکہ اس چیز سے جو کام لینا مقصود تھا اس کے مطابق اس کی شکل و صورت بنائی اور شکل و صورت کو اس طرح ٹھیک ٹھاک اور درست کیا کہ اس کے لیے اس سے بہتر شکل و صورت ممکن ہی نہ تھی۔ مثلاً ناک کا ایک کام یہ ہے کہ اس سے دماغ کے فضلات خارج ہوتے رہیں اور یہ مقصد ناک کو سر کے پیچھے بنانے سے بھی حاصل ہو سکتا تھا۔ مگر اس کے تصور سے ہی انسان کو گھن آنے لگتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ناک کو چہرہ پر سامنے بنایا تاکہ چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ ہو، نیز انسان کی ناک بہتی ہی نہ رہے بلکہ انسان بوقت ضرورت اپنے ہاتھ سے جھاڑ سکے اور صاف کر سکے۔ یہی صورت حال ایک ایک عضو بلکہ کائنات کی ایک ایک چیز کے متعلق مشاہدہ کی جا سکتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف خالق ہی نہیں بلکہ انتہا درجہ کا حکیم اور مدبر بھی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اعضاء کی تخلیق محض اتفاقات کا نتیجہ قطعاً نہیں ہے ورنہ مقاصد کے ساتھ ساتھ حسن و جمال کے امتزاج کا تصور بھی نہیں ہو سکتا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
مسند احمد میں ہے { عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آیت «فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ» ۱؎ [56-الواقعة:74]‏‏‏‏ اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تم اپنے رکوع میں کر لو جب «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى» ۱؎ [87-الأعلى:1]‏‏‏‏ اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے سجدے میں کر لو } ۱؎ [سنن ابوداود:869،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
ابوداؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى» ۱؎ [87-الأعلى:1]‏‏‏‏ پڑھتے تو کہتے «سُبْحَان رَبِّي الْأَعْلَى» } ۱؎ [سنن ابوداود:883،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ مروی ہے۔
اور آپ جب «لَا أُقْسِم بِيَوْمِ الْقِيَامَة» ۱؎ [75-القيامة:1]‏‏‏‏ پڑھتے اور آخری آیت «أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» ۱؎ [75-القيامة:40]‏‏‏‏ پر پہنچتے تو فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۱؎ [75-القيامة:40]‏‏‏‏
اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرماتا ہے ’ اپنے بلندیوں والے، پرورش کرنے والے، اللہ کے پاک نام کی پاکیزگی اور تسبیح بیان کرو جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور سب کو اچھی ہیئت بخشی، انسان کو سعادت شقاوت کے چہرے دکھا دئیے اور جانور کو چرنے چگنے وغیرہ کے سامان مہیا کیے ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» ۱؎ [20-طه:50]‏‏‏‏ یعنی ’ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا فرمائی پھر رہبری کی ‘۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { زمین آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا ۱؎ [سنن ترمذي:2134،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ جس میں ہر قسم کے نباتات اور کھیت نکالے پھر ان سرسبز چاروں کو خشک اور سیاہ رنگ کر دیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2653]‏‏‏‏
بعض عارفان کلام عرب نے کہا ہے کہ یہاں بعض الفاظ جو ذکر میں مؤخر ہیں معنی کے لحاظ سے مقدم ہیں، یعنی مطلب یہ ہے کہ جس نے گھاس چارہ سبز رنگ سیاہی مائل پیدا کیا پھر اسے خشک کر دیا، گویہ معنی بھی بن سکتے ہیں لیکن کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے کیونکہ مفسرین کے اقوال کے خلاف ہیں۔