اس آیت کی تفسیر آیت 12 میں تا آیت 14 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
13۔ 1 ان کے برعکس جو لوگ صرف اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے عارضی طور پر جہنم میں رہ گئے ہوں گے انہیں اللہ تعالیٰ ایک طرح کی موت دے دے گا حتی کہ وہ آگ میں جل کر کوئلہ ہوجائیں گے پھیر اللہ تعالیٰ انبیاء وغیرہ کی سفارش سے ان کو گروہوں کی شکل میں نکالے گا، ان کو جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، جنتی بھی ان پر پانی ڈالیں گے جس سے وہ اس طرح اٹھیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے سے دانہ اگ آتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ پھر اس میں [9] نہ مرے گا نہ جیے گا
[9] یعنی اخروی زندگی میں مر تو سکے گا نہیں اور جو زندگی ہو گی وہ عذاب کی وجہ سے موت سے بد تر ہو گی۔ ایسی زندگی پر وہ خود بھی موت کو ترجیح دیں گے مگر موت نام کی وہاں کوئی چیز نہ ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔