(آیت 5تا7) ➊ {فَلْيَنْظُرِالْاِنْسَانُمِمَّخُلِقَ …:} ایک مقرر وقت تک انسان کی ذات کی حفاظت اور اعمال کی نگہداشت یوم حساب کے لیے ہے، اگر اسے اپنا دوبارہ زندہ کیا جانا محال معلوم ہوتا ہے تو اپنی پیدائش پر غور کر لے کہ کس چیز سے ہوتی ہے؟ ایک اچھلنے والے پانی سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے پانی جیسی مائع چیز پر صورت گری کرکے ایک کامل انسان پیدا کر دیا، جس میں مکمل اعضائے جسم، حیات، قوت، عقل اور ادراک سب کچھ موجود ہے تو یقینا وہ اس انسان کو اس کی مٹی سے دوبارہ پہلی صورت میں پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ بتاؤ، انسان کو پانی سے بنانا مشکل ہے یا اسی کی خاک سے دوبارہ بنا دینا؟ اور پہلی دفعہ بغیر نمونے کے پیدا کرنا مشکل ہے یا پہلے نمونے پر دوبارہ بنا دینا؟ ➋ منی اگرچہ بظاہر خصیوں میں بنتی ہے، مگر جب پیدا کرنے والے نے بتا دیا کہ اس کا اصل مرکز پیٹھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان ہے تو اس حقیقت میں شک کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ بعض اہلِ علم کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ جدید طب نے بھی تسلیم کیا ہے کہ جنین کے خصیے ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان گردوں کے قریب ہوتے ہیں، پھر ولادت سے پہلے اور بعض اوقات ولادت سے کچھ دیر بعد فوطوں میں اتر آتے ہیں، مگر پھر بھی ان کے اعصاب اور رگوں کا مقام وہی {”بَيْنِالصُّلْبِوَالتَّرَآىِٕبِ“} رہتا ہے، بلکہ ان کی شریان بھی پیٹھ کے قریب شہ رگ ({أَوْرَطٰي}) سے نکلتی ہے اور پورے پیٹ سے گزرتی ہوئی ان کو خون مہیا کرتی ہے۔ گویا خصیتین بھی اصل میں پیٹھ کا جز ہیں جو جسم کا زیادہ درجۂ حرارت برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے باہر فوطوں میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔ اب مادۂ منویہ اگرچہ خصیتین میں پیدا ہوتا اور کیسۂ منی میں جمع ہوتا ہے، مگر اسے خون پہنچانے اور حرکت دینے والا مرکز {”بَيْنِالصُّلْبِوَالتَّرَآىِٕبِ“} ہی ہے۔ دماغ سے اعصاب کے ذریعے سے جب اس مرکز کو حکم پہنچتا ہے تو اس مرکز کی تحریک سے کیسۂ منی سکڑتا ہے اور مائِ دافق پچکاری کی طرح اچھل کر نکلتا ہے۔ الحمدللہ جدید طب بھی اس حقیقت کو معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بالفرض اگر وہ اس حقیقت تک نہ پہنچ پاتی تو قرآن کا بیان پھر بھی اٹل حقیقت تھا۔ قصور انسانی تجربات و مشاہدات کا تھا جو اپنی نارسائی کی وجہ سے خالق کی بیان کردہ حقیقت تک نہ پہنچ سکے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 یعنی منی سے جو قضائے شہوت کے بعد زور سے نکلتی ہے۔ یہی قطرہ آب رحم عورت میں جر اللہ کے حکم سے حمل کا باعث بنتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ لہٰذا انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز [4] سے پیدا کیا گیا ہے؟
[4] عالم بالا کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب انسان کو دعوت دی جا رہی ہے کہ وہ ذرا اپنی پیدائش پر بھی غور کر لے کہ ماں کے پیٹ میں کون اس کی پرورش کرتا رہا اور کس نے اس کے حمل کو رحم مادر میں جمائے رکھا اور اتنا سخت جمایا کہ بغیر کسی شدید حادثہ کے حمل ضائع نہیں ہو سکتا تھا۔ پھر جب وہ ماں کے پیٹ سے باہر آیا تو اتنا زیادہ ناتواں اور کمزور تھا جتنا کمزور بچہ دوسری کسی جاندار مخلوق کا نہیں ہوتا۔ پھر دوسری تمام مخلوق سے بڑھ کر اس کی نشو و نما کے انتظامات فرمائے۔ پھر پیدائش سے لے کر موت تک اس کی مسلسل نگرانی کرتا رہتا ہے۔ اسے بیماریوں سے، حادثات سے اور طرح طرح کی آفات سے بچاتا رہتا ہے۔ اس کی زندگی اور زندگی کی بقا کے اتنے ذرائع بہم پہنچاتا ہے جنہیں انسان شمار بھی نہیں کر سکتا بلکہ اسے ان کا شعور تک نہیں ہوتا۔ کجا وہ خود فراہم کرنے پر قادر ہو۔ تاآنکہ وہ اپنی اس مدت موت کو پہنچ جاتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی تدبیر اور اس کی نگرانی کے بغیر ہونا ممکن ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔