ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطارق (86) — آیت 4

اِنۡ کُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَیۡہَا حَافِظٌ ؕ﴿۴﴾
نہیں کوئی جان مگر اس کے اوپر ایک حفاظت کرنے والا ہے۔ En
کہ کوئی متنفس نہیں جس پر نگہبان مقرر نہیں
En
کوئی ایسا نہیں جس پر نگہبان فرشتہ نہ ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 3 میں تا آیت 5 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 یعنی ہر نفس پر اللہ کی طرف سے فرشتے مقرر ہیں جو اس کے اچھے یا برے سارے اعمال لکھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ انسانوں کی حفاطت کرنے والے فرشتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ کہ کوئی جان ایسی نہیں جس پر ایک محافظ [3] مقرر نہ ہو
[3] ہر جاندار کی حفاظت کرنے والی ہستی :۔
ان تین آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی قسم اٹھائی گئی ہے جو اہل زمین کو ﴿شهاب ثاقب﴾ جیسی بلاؤں سے محفوظ رکھتا ہے اور اس بات پر قسم اٹھائی گئی ہے کہ ہر انسان پر ایک نگہبان مقرر ہے جو اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتا ہے۔ یہ نگہبان کون ہے؟ یہ خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے۔ اور جس نے ہر جاندار کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے اور اس کی موت کے مقررہ وقت تک آفات ارضی و سماوی سے بچانے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ یہ حفاظت اکثر اوقات ایسے غیر شعوری طریقوں سے ہوتی ہے کہ انسان کو اس کا علم تک نہیں ہوتا اور جب کبھی علم ہو جاتا ہے تو انسان کی زبان سے بے ساختہ ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں کہ ”اس موقعہ پر اللہ نے مجھے ہاتھ دے کر بچا لیا ورنہ میرے بچے رہنے کی کوئی توقع نہ تھی“ اور ایسے واقعات تقریباً ہر انسان کو اپنی زندگی میں پیش آتے ہی رہتے ہیں۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ رعد میں فرمایا: کہ ہر انسان کے آگے پیچھے ہم نے فرشتے مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں [13: 11] واضح رہے کہ حفاظت کی نسبت براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف ہو یا اس کے فرشتوں کی طرف اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔